تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 542

بنایاکرتاہے۔پس اب بھی اسی طرح ہوگا۔نیانظام اورنئی دنیا بھی آدم ہی کے ذریعہ سے بنائے جائیں گے۔اور انسان کی تخلیق یعنی بنی نوع انسان کے اندر جو خرابیاں پیداہوجائیںگی۔ان کی اصلاح کرکے انسان کو ازسرنو درست کرنے کاکام بھی دنیاوی تدابیر سے نہ ہوسکے گا بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدیم سنت کے ماتحت ہوگا۔قرآن کریم کا یہ کتنا بڑامعجز ہ ہے۔تیرہ سوسال پہلے اس نے ان اصطلاحات تک کو بیا ن کردیا ہے جو آخری زمانہ میں استعمال ہونے والی تھی۔NEW WORLD اور NEW ORDER کا ذکر کن خوبصورت الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے کردیاہے۔اورکس طرح اس کابھی جواب دے دیا ہے۔کہ آج تک نئی دنیا او رنیانظام آدم کے مخالفوں کے ہاتھ سے خدا تعالیٰ نے تیار نہیں کروایا۔بلکہ ہمیشہ آدم اورفرشتوں کے ہاتھ سے کروایا ہے۔اسی طرح اب ہوگا۔وَ يَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ اور(اس دن کوبھی یاد کرو )جس دن و ہ(یعنی خدائے برترمشرکوں کو)کہے گا (کہ اب )تم میرے (ان )شریکو ں فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ کوبلائو جن کے (شریک ہونے کے)متعلق تم دعویٰ کرتے تھے۔جس پر وہ انہیں بلائیں گے مگر وہ انہیں (کوئی ) مَّوْبِقًا۰۰۵۳ جواب نہیں دیں گے۔اوران کے (او ر ان کے شریکوںکے)درمیان ہم ایک آڑ(حائل)کردیں گے۔حلّ لُغَات۔موبق۔مَوْبِقًا وَبِقَ یَوْبَقُ۔کامصدر یااسم ظرف ہے۔وَبَقَ کے معنی ہلاک ہونے کے ہیں۔مَوْبِقٌ مصدرکے معنی کسی مصیبت میں پھنس کرہلاک ہونے کے ہیں۔اوراگرظرف ہوتوا س کے مندرجہ ذیل معنی ہوں گے اَلْمَھْلِکُ۔ہلاکت کی جگہ۔اَلْمَوْعِدُ۔وعدہ کی جگہ۔اَلْمَحْبِسُ۔قید خانہ۔کُلُّ شَیْءٍ حَالَ بَیْنَ شَیْئَیْنِ ہرایسی چیز جودوچیز وں کے درمیان آڑ ہوجائے۔وَقِیْلَ مُسَافَۃٌ تَھْلُکُ فِیْھَا الْاَسْوَاطُ لِبُعْدِھَا۔بعض نے اس کے معنی دشوا رگزارسفر کے کئے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔یعنی اس وقت اپنے معبودان باطلہ کوبلائیںگے کبھی اپنے اولیاء کو پکاریں گے جن کوشفاعت