تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 541
مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ میں نے انہیں نہ آسمانوں اورزمین کی پیدائش( کے موقعہ)پرحاضرکیاتھا۔اورنہ (خود )ان کی (اپنی )جانوں کی اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّيْنَ عَضُدًا۰۰۵۲ پیدائش کے موقعہ پر اورنہ ہی میں گمراہ کرنے والوںکو(اپنا )مددگاربناسکتاتھا۔حلّ لُغَات۔عَضُدٌ اَلْعَضُدُ مَابَیْنَ الْمِرْفَقِ اِلَی الْکَتِفِ کہنی سے کندھے تک بازوکے حصہ کو عضد کہتے ہیں۔وَیُسْتَعَارُ الْعَضُدُ لِلْمُعِیْنِ۔استعارۃً مددگار اورمعاون کو بھی عضد کہتے ہیں (مفردات ) تفسیر۔مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْمیں ھُمْ کی ضمیر کا مرجع مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ کی ضمیر شیطان اوراس کی ذریت کی طرف جاتی ہے اوراس میں یہ بتایاگیا ہےاے لوگوتم شیطان کو کیا اس لئے دوست بناتے ہوکہ اس سے ترقی حاصل کرلو گے۔حالانکہ تمہاری پیدائش میں اس کاکوئی دخل نہ تھا۔اورنہ اس کاکوئی حصہ زمین و آسمان کی پیدائش میں تھا۔بلکہ انسان کی تما م قوتیں نیکی کی خاطرپیداکی گئی تھیں۔اوراللہ تعالیٰ گمراہ کرنے والوںکواپنا ساتھی اورخدمت گزار نہیں بناسکتا۔پس دنیا میں اگر کوئی قوم جو خدا تعالیٰ سے دور ہو ترقی بھی کرجائے توکبھی یہ نہ خیال کرناچاہیے۔کہ اللہ تعالیٰ اب دنیا کاکام اس کے ہاتھ میں دےدے گا۔اللہ تعالیٰ تودنیا کی حکومت اپنے ہاتھ میں رکھتاہے اوررکھے گا۔ایسے لوگوں کی کامیابیاں تومحض عارضی ہوتی ہیں اورخدا تعالیٰ پھر انسان کو نیکی کی طرف لے جاتاہے۔اس آیت پر ذراسا تدبّر کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اس میں ایک عظیم الشان مضمون بیان کیاگیاہے گزشتہ مضمون بتارہاہے۔کہ شیطان یا اس کی ذریت کو زمین و آسمان کے پیداکرنے میں کوئی دخل حاصل ہونا توالگ رہا ان کو اس سے کوئی دور کاتعلق بھی نہیں ہے۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ جس زمانہ کااس آیت میں ذکر ہے۔اس میں بعض آدم کے مخالف یادین سے بے بہرہ لوگ ایک نئی دنیاکے بسانے کے مدعی ہوں گے اورکہیں گے کہ وہ اپنے زورسے ایک نئی دنیا بسائیں گے۔اورایک نیانظام قائم کریں گے۔اللہ تعالیٰ اس کا جواب دیتاہے اورفرماتا ہے۔کہ کیاکبھی پہلے ایساہواہے کہ نئی دنیا اورنیا نظام بنانے میں اللہ تعالیٰ نے شیطان اورا س کی ذریت سے مدد لی ہو۔اگر پہلے کبھی ایسانہیں ہوا۔توآئندہ کس طرح ممکن ہے ہمیشہ نئی دنیا اورنیانظام اللہ تعالیٰ آدم اورفرشتوںکے ذریعہ سے