تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 540 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 540

ہوجائو۔اس کے معنے بھی یہی ہیں کہ تم فرمانبرداری کرتے ہوئے جائو۔(مفردات) ابلیس اِبْلِیْسَ کے لئے دیکھو حجرآیت نمبر ۳۲و بنی اسرائیل آیت نمبر ۶۲۔اَلْجِنّ کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۳۸۔جَنَّ یَجُنُّ جَنًّاوَ جُنُوْنًا کے معنے ہیں۔سَتَرَ ہٗ وَاَظْلَمَ عَلَیْہِ پردہ ڈال دیااوراندھیراکردیا جَنَّ الَّیْلُ:اَظْلَمَ وَاخْتَلَطَتْ ظُلْمَتُہٗ۔رات کی تاریکی چھا گئی۔وَجَنَّ الْجَنِیْنُ فِی الرَّحِمِ: اِسْتَتَرَ۔جنین رحم میں پوشیدہ ہوگیا۔وَالْجَانُّ اسم فاعل اور جانّ اسم فاعل ہے یعنی اندھیرا کردینے والا۔یاپوشیدہ ہوجانے والا۔وَاِسْمٌ جَمْعٍ لِلْجِنِّ۔اوریہ جنّ کی اسم جمع بھی ہے۔حُیَّۃٌ بَیْضَاءُ کَحَلَاءُ الْعَیْنِ لَاتؤْذِیْ۔اوراس سفیدسانپ کو بھی جو سرمگین آنکھوں والاہو جانّ کہتے ہیں۔ایسے سانپ میں زہر نہیں ہوتااوروہ کاٹتا نہیں (اقرب) وَالْجَانُ اَبُوالْجِنِّ اورجنّوں کے مورث اعلیٰ کوبھی جانّ کہتے ہیں۔(تاج) فَسَقَ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۳۴۔فَسَقَ الرَّجُلُ فِسْقًا:تَرَکَ اَمْرَاللہِ۔اللہ کی نافرمانی کی۔عَصٰی نافرمان ہو گیا۔جَارَعَنْ قَصْدِ السَّبِیْلِ۔درست راہ سے روگردان ہو گیا۔فَـجَرَ۔بدکردار ہو گیا۔خَرَجَ عَنْ طَرِیْق الْحَقِّ۔حق کی راہ سے الگ ہو گیا۔ا َلرُّطْبَۃُ عَنْ قِشْرِھَا: خَرَجَتْ گابھا چھلکے سے باہر آگیا۔(اقرب) بدلاً۔اَلْبَدَلُ کے معنی ہیں اَلْعِوَضُ۔بدلہ۔اَلْخَلَفُ۔قائمقام (اقرب) تفسیر۔تباہی کے ذکر کےساتھ آدم کے واقعہ کا ذکر قرآن کریم میں بہت سے مقامات پر جہاں کسی ایسی تباہی کا ذکر ہو۔جومامورکی معرفت دنیا پر آئی ہو۔وہاں آدم کے واقعہ کا ذکر بھی کیا جاتاہے۔اس سے لوگوںکو اس طرف توجہ دلانامقصود ہوتاہے کہ اے لوگو تم سے پہلے آدم کاواقعہ گذر چکا ہے۔اس سے فائدہ حاصل کرو۔اورشیطان کواپنا دوست نہ بنائو۔اس آیت کے ذریعہ گویا لوگوں کوہوشیار کیاگیا ہے کہ مسلمانوںکواوردوسری قوموں کوہوشیار رہناچاہیے کہ پہلے بھی شیطان نے آدم کو گمراہ کرنا چاہا تھا۔اوروہ شیطان کے پیچھے چل پڑے تھے۔مگر اے آدم کی ذریت تم ہوشیار رہنا اورشیطانی آواز کی اطاعت نہ کرنا۔