تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 539 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 539

میں ڈرپیداہوجائے گا۔کہ جس تہذیب پر ہم کو اس قدرناز تھا وہ تباہ ہونے کوہے۔يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِسے اس طرف اشار ہ ہے۔کہ تمام گزشتہ غلطیوں کی سز اایک ایک کرکے ملنی شروع ہوجائے گی۔اوران کے دل محسوس کریں گے کہ ا س دنیاکاحاکم خداہے۔جوانسانی اعمال کو بغیر نتیجہ کے نہیں چھوڑتا اوروہ سب اپنے اعمال کانتیجہ بھگتیں گے۔آخر میں یہ بتایاکہ گوانجام بڑاتلخ ہوگا۔مگریہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہ ہوگا۔بلکہ اعمال کے مطابق جزاہوگی۔وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىِٕكَةِ۠ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِيْسَ١ؕ اور(اس وقت کو بھی یاد کرو)جب ہم نے فرشتوںکوکہاتھا(کہ )تم آدم کےساتھ(ساتھ)سجد ہ کروتوانہوںنے كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ (تواس حکم کے مطابق )سجدہ کیا۔مگرابلیس نے (نہ کیا )وہ جنوں میں سے تھاپھراس نے اپنے رب کے حکم کی وَ ذُرِّيَّتَهٗۤ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِيْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ نافرمانی کی۔توکیا تم مجھے چھوڑ کر اسے اوراس کی نسل کو (اپنے )دوست بناتے ہو۔حالانکہ و ہ تمہارے دشمن ہیں۔لِلظّٰلِمِيْنَ بَدَلًا۰۰۵۱ ظالموں کے لئے وہ (یعنی شیطان خدا تعالیٰ کا)بدل ہونے کے لحاظ سے بہت ہی بُراہے حلّ لُغَات۔لِاٰدَمَ لِاٰ دَمَ ل بمعنی مَعَ ہے۔تفصیل کے لئے دیکھو سورئہ بنی اسرائیل آیت نمبر ۶۲۔سَجَدُوْا سَجَدُوْا سَجَدَ سے جمع کاصیغہ ہے۔تشریح کے لئے دیکھو حجرآیت نمبر ۳۱۔اَلسُّجُوْدُ۔اَلتَّذَلُّلُ سجود کے معنی تذلل اورماتحتی کے ہیں۔(مفردات) وَقَوْلُہٗ اُسْجُدُوْا لِاٰدَمَ قِیْلَ اُمِرُوْا بِالتَّذَلُّلِ لَہٗ وَ الْقِیَامِ بِمَصَالِحِہِ وَ مَصَالِحِ اَوْلَادِہِ۔آیت اُسْجُدُوْا لِاَدَمَ میںفرشتوںکو حکم دیا گیا ہے کہ وہ آدم کے ماتحت چلیں۔اوراس کی مدد کریں اوراس کی اولاد کے لئے ممدّو معاون بنیں۔وَقَوْلُہ ادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًااَیْ مُتَذَلِّلِّیْنَ مُنْقَادِیْنَ۔اورقرآن کریم میں جو یہ آیا ہے کہ تم اس دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل