تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 537
اَلْاَرْضَ سے مراد اہل ارض اَلْاَرْضَ سے مراد اہل ارض(اہل زمین)ہیں۔عربی زبان کامحاورہ ہے کہ بعض دفعہ مضاف کو محذوف کردیاجاتاہے جیسا کہ سورئہ یوسف میں آتاہے وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا وَ الْعِيْرَ الَّتِيْۤ اَقْبَلْنَا فِيْهَا(یوسف:۸۳)یہاں القریۃ اورالعیر سے مراد اہل قریہ اوراہل عیر ہیں۔الارض ،الجبل سے مراد ڈکٹیٹرز اور ڈیماکریسز ہو سکتا ہے کہ اَلْاَرْضَ سے ادنیٰ طبقہ کے لوگ مراد ہوں۔اوراَلْجِبَالَ سے مراد بڑے لوگ یعنی اس دن ایک طرف سے جبال یعنی بڑے لوگ یادوسرے لفظوں میں ڈکٹیٹرز نکلیں گے۔اور دوسری طرف سے ارض یعنی ڈیماکریسز کے حامی اورحکومت عوام کے نمائندے نکلیں گے۔اورآپس میں خوب جنگ ہوگی۔حَشَرْنٰهُمْ۔حَشَرَ کے معنی کھڑاکردینے کے ہوتے ہیں۔اورحَشْرٌ لشکر کے لئے بھی آتاہے۔کیونکہ وہ بھی سامنے کھڑاہوتاہے۔فرمایاہم ان سب کو ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑاکردیںگے اورسب کوسزادیں گے۔وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا اوروہ صف باندھے ہوئے تیرے رب کے سامنے پیش کئے جائیں گے (اوران سے کہا جائےگاکہ )تم (اب) كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١ٞ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ یقیناً( اسی طرح بحالت ناچارگی )ہما رے پاس آئے ہو جس طرح (کی حالت میں )ہم نے تمہیں پہلی بارپیدا کیاتھا لَكُمْ مَّوْعِدًا۰۰۴۹ (اور تم یہ امید نہیں رکھتے تھے )بلکہ تمہیں دعویٰ تھا کہ ہم تمہا رے لئے کوئی وعدہ (کے پوراہونے)کی ساعت مقررنہیں کریں گے۔تفسیر۔و ہ اپنے رب کے حضور صفیں باندھ کر کھڑے کئے جائیں گے۔یعنی اللہ تعالیٰ کافیصلہ ان کے متعلق جاری کیا جائے گا خداکے حضور پیش ہونے میں باطنی صفیں باندھنا ہی مراد ہے ظاہری صفوں کاہونامرا دنہیں۔جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی تباہی کافیصلہ کرتا ہے تووہ اس کی قیامت ہی ہوتی ہے۔لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١ٞ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا تم ہمارے پاس آئے ہو۔جیسا