تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 530
مصیبت اَلْعَجَاجُ۔غبار۔اَلْـجَرَادُ۔ٹڈی دل۔اَلنَّارُ۔آگ (تاج) صعیدًا صَعِیْدًاکے معنی کے لئے دیکھو سورۃ ہذاآیت نمبر ۹۔زَلَقًا۔اَلزَّلْقُ :مَوْضِعُ الزَّلَقِ لَایَثْبُتُ عَلَیْہ قدمٌ پھسلنے کی جگہ جہاں پائوں جم نہ سکے۔اَرْضٌ زَلَقٌ اَیْ مَلْسَاءٌ لَیْسَ بِھَاشَیْءٌ۔چٹیل میدان بے آب وگیاہ زمین (اقرب) تفسیر۔اس آیت میں بھی جنت کا لفظ جوایک باغ پر دلالت کرتاہے استعمال ہواہے۔اوراس کے بعد يُرْسِلَ عَلَيْهَا فرمایا ہے عَلَیْھِمَا نہیں فرمایا۔کیونکہ ایک باغ اسلامی زمانہ سے پہلے ہلاک ہوچکاتھا اس پر فخر تواس رنگ کا تھا۔جیسے کہ لوگ اپنے آباء کی بڑائی پر فخر کرتے ہیں۔اصل فخر موجودہ زمانہ کے باغ پرہے۔اس لئے فرمایا کہ اگر تومجھے ادنیٰ حالت میں دیکھتا ہے اوراس پرنازاں نہ ہو۔کیونکہ یہ بات ناممکن نہیں۔کہ میرارب تیرے باغ سے بہتر باغ مجھے دے دے۔اورصرف یہی نہیں بلکہ آسمانی عذاب نازل کرکے تیرے باغ کو جلادے۔اورتیرے ہمیشہ حکومت کر نے کے دعاوی دھرے کے دھرے رہ جائیں۔اس جگہ صَعِيْدًا زَلَقًا کے الفاظ آئے ہیں۔یہ وہی لفظ ہیں جو شروع سور ۃ میں خدا تعالیٰ کابیٹابنانے والوں کی نسبت آچکے ہیں جس سے ظاہرہوگیا۔کہ اس قوم کے متعلق اس جگہ مثال بیان کی گئی ہے۔یاجوج ماجوج سے لڑنے کی کسی کو طاقت نہ ہوگی مِنَ السَّمَآءِ میں یہ بتایا ہے۔کہ زمینی تدابیر سے اس قوم کامقابلہ نہ ہوسکے گا چنانچہ یاجوج ماجوج کے متعلق جومسیحیت کی دنیاوی ترقی کے دوظہور ہیں لکھا ہے کہ لَایَدَانِ لِاَحَدٍ بِقِتَالِھِمْ (مسلم کتاب الفتن باب ذکر الدجال) کہ ان سے لڑنے کی کسی کوطاقت نہ ہوگی۔ان کامقابلہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوگا۔اَوْ يُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِيْعَ لَهٗ طَلَبًا۰۰۴۲ یااس کاپانی خشک ہوجائے (اور)پھرتواس کی تلاش کی (بھی)طاقت نہ پائے (چنانچہ ایسا ہی ہوا) حلّ لُغَات۔غَوْرًا۔غَارَالْمَاءُ غَوْرًا کے معنی ہیں ذَھَبَ فِی الْاَرْضِ وَسَفَلَ فِیْھَا پانی زمین میں جذب ہوکر نیچے چلاگیا۔اَلْغَوْرُ غَارَ کامصدر ہے۔نیز اس کے معنی ہیں اَلْمَاءُ الْغَائِرُ ایساپانی جو زمین میں جذب ہوکر خشک ہوگیاہو(اقرب)