تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 526

شان وشوکت پر بہت ناز کریں گے اورسخت بے دین ہوں گے کیونکہ ظالمٌ لِنفسہٖ کایہی مطلب ہوتاہے۔اورپھر ان کویہ خیال ہوگا کہ ہماری حکومت کبھی تباہ نہ ہوگی۔اس جگہ جنت کالفظ استعمال کیاگیا ہے۔حالانکہ باغ دوتھے۔کیونکہ گومسیحی قو م کوناز اپنی پہلی تاریخ پر بھی ہے۔مگراصل ناز ان کو آخری زمانہ کی ترقی پر ہے۔اوراسلام کے مقابل پر وہ اسی کو پیش بھی کرتے ہیں۔اس لئے اب اس جگہ سے دوباغوں کا ذکر ترک کرکے سب مفرد کے صیغے ہی استعمال کئے گئے ہیں۔جنتین کی جگہ جنت کہنے سے یہ بھی مراد ہوسکتی ہے۔کہ ان دونوں جنتوںکو ایک لحاظ سے ایک ہی سمجھنا چاہیے کیونکہ درحقیقت یہ ترقی ایک ہی قوم کی ہے گوایک وقفہ پڑ جانے کی وجہ سے دوحصوں میں تقسیم ہوگئی ہے۔ان معنوں کے روسے میرے اس خیال کی تائید ہوتی ہے۔جومیں اوپر بیان کرآیاہوں کہ کِلْتَا کے لئے باوجود تثنیہ کی ضمیر کے استعمالی کی اجازت ہونے کے جومفرد کی ضمیر پھیری گئی ہے اس سے اس طرف اشارہ کرنامقصود ہے۔کہ من جہۃٍ وہ دونوں باغ ایک ہی باغ سمجھے جانے چاہئیں۔وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآىِٕمَةً١ۙ وَّ لَىِٕنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّيْ اورمیں نہیں سمجھتاکہ وہ (موعودہ)گھڑی (کبھی)آنے والی ہے۔اوراگر(بالفرض)مجھے میرے رب کی طرف لَاَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا۰۰۳۷ لوٹا(بھی)دیاجائے تومیں (وہاں بھی )یقیناًاس سے بہتر ٹھکانا پائوں گا۔حل لغات۔ظَنٌّ اَظُنُّ ظَنَّ سے مضارع متکلم کاصیغہ ہے۔اورظَنَّ الشَّیْءَ کے معنی ہوتے ہیں : عَلِمَہُ کسی چیز کو جاننا۔وَاسْتَیْقَنَہُ کسی چیز کے متعلق یقین کرلیا۔وَتَأْتِیْ ظَنُّ لِلدَّلَالَۃِ عَلَی الرُّجْحَانِ۔اوربعض اوقات راجح خیال کوظاہر کرنے کے لئے بھی ظَنَّ کافعل استعمال کرتے ہیں (اقرب)پس مَااَظُنُّ کے معنی ہوں گے میں یقین نہیں کرتا۔میں نہیں سمجھتا۔الساعۃ اَلسَّاعَۃُ کے لئے دیکھو سورہ ہذاآیت نمبر ۲۲۔منقلبًامُنْقَلَبًایہ اِنْقَلَبَ سے مصدرمیمی ہے اورظرف مکان بھی ہے۔اِنْقَلَبَ کے معنی ہیں اِنْکَبَّ الٹ گیا۔رَجَعَ۔لوٹا(اقرب)