تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 49
اس طرف اشارہ ہے کہ دنیا بھر میں سطح زمین یکساں اورمشابہ نہیں۔بلکہ نشیب و فراز،پانی ،خشکی جنگل اوربیابان زمینوں کی مٹی کے فرق اس قدر ہیں کہ ان کے ذریعہ سے انسان راستہ معلوم کرلیتا ہے۔اگر سب دنیا ایک ہی شکل کی ہوتی توانسان کولہوکے بیل کی طرح ایک ہی جگہ چکر لگاتارہتا۔ظاہری ستاروں کے بالمقابل روحانی ستارے یہ توزمین پر راستوں کے معلوم کرنے کاذریعہ ہے۔ایک آسمانی ذریعہ بھی ہے جورات کی تاریکی اورسمندر میں کام آتا ہے اوروہ ستارے ہیں۔ان کو دیکھ کر انسان اپنے راستے کو معلوم کرتا ہے۔یہی حال روحانی سفر کاہے اس میں بھی علامات ہیں۔یعنی روحانی ترقی کے مدارج میں امتیاز ی نشان پیداکئے گئے ہیں جس کو دیکھ کر انسان سمجھ سکتاہے کہ آگے کو کون ساراستہ جاتاہے اورپیچھے کو کونسا۔اسی طرح ستاروں کی طرح انبیا ء کاوجود ہے کہ ان کے مقام سے بھی انسان روحانی سیر میں راستہ پاتا ہے۔اورہرنبی کو جودوسرے نبی سے نسبت ہوتی ہے۔اس کے ذریعہ سے وہ روحانی سیر میں مدد دیتا ہے۔جس طرح ایک ستارہ اپنے مقام سے دوسرے ستارے کے مقام کی طر ف رہنمائی کرتاہے۔اسی طرح ہرنبی اپنی تعلیم سے دوسرے نبی کی خبر دیتاہے اوراس طرح انسان اپنے ایما ن میں آگے ہی آگے بڑھتاچلاجاتاہے۔موسیٰ ؑنے اپنے بعد آنے والے نبی کی ا س نے اپنے بعد کے نبی کی اوراس نے اپنے بعد کے نبی کی خبر دی۔اورگویا ہرستارہ دوسرے ستارے کی طرف رہنمائی کرتا گیااورسب ستاروں نے سورج کی یعنی محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزل کی طرف رہنمائی کی۔جس سے انسان کو روحانی سفر کے طے کر نے اورمرکز روحانیت کے مقام تک ہدایت پانے کا موقعہ مل گیا۔اَفَمَنْ يَّخْلُقُ كَمَنْ لَّا يَخْلُقُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۰۰۱۸ پھر (بتائو تو سہی کہ )کیا جو پیداکرتا ہے وہ اس جیسا ہو سکتا ہے جو(کچھ بھی )پیدا نہیں کرتا کیاتم پھر (بھی) نہیں سمجھتے۔تفسیر۔آیت اَفَمَنْ يَّخْلُقُ میں اس کی ترتیب کے متعلق ایک سوال اور مفسرین کا جواب آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ کیا جس نے پیدا کیاہے وہ اس کی طرح ہو سکتا ہے جس نے پیدا نہیں کیا۔اس پر بعض لوگوں نے یہ اعتراض اٹھایاہے کہ کہنا تو یہ چاہیے تھا کہ کیاجو پیدا نہیں کرتا وہ اس کی طرح ہو سکتا ہے جو پیداکرتاہے (کشاف زیر آیت ھذا)کیونکہ مقابلہ میں ادنیٰ کو اعلیٰ کے مقابل پر رکھتے ہیں نہ کہ اعلیٰ کو ادنیٰ کے مقابل پر۔طاقت کے اظہار کے لئے یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ کیا بچہ پہلوان کی طرح ہوسکتا ہے۔مگریہ نہیں کہہ سکتے کہ کیا پہلوان بچہ کی طرح