تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 525

ہے کہ مسیحیت اپنی ترقی کے زمانہ میں فوجوں پرانحصار رکھے گی۔اوراپنی حفاظت کے زبردست سامان کرے گی۔اورباغ کو ایک لحاظ سے دواورایک لحاظ سے ایک اس لئے قرار دیاہے۔کہ سابق قوموں کے برخلاف مسیحیت کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ اس کی ترقی دوزمانوں میں ہوئی ہے۔ایک اسلام سے پہلے اس کی ترقی کا زمانہ تھا۔اوردوسرازمانہ اسلام کے تین سوسال بعد شروع ہوااورسات سوسال میں جاکر تکمیل کوپہونچا۔یعنی سترھویںصدی میں ان ترقی کے دوزمانوں کے درمیان ان کی حالت زرع کی سی رہی۔کہ وہ جانوروں کے پائو ںتلے روندے جانے اوراکھیڑے جانے کے خطرہ میں ہوتی ہے۔اوران دونوں زمانوں کے درمیان جومسیحیت کے باغ کہلانے کے مستحق تھے۔اللہ تعالیٰ نے ایک نہر چلادی تھی۔یعنی اسلام کا زمانہ رکھ دیاتھا۔جس نے مسیحی قوم کے دونوں باغوں کو ایک دوسرے سے جداکردیاتھا۔ان دونوں زمانوں کے درمیان ایک عظیم الشان انسان پیداہوا۔اوراللہ تعالیٰ نے امر معروف کاسلسلہ جاری کیا۔پھر بتایا ہے کہ جب اسلام دنیا میں آگیا۔تودونوں باغوں کے مالک نے یعنی عیسائی قوم کے لیڈروں نے مسلمانوں کو طعنہ دینا شروع کیا۔کہ تمہاری کیاطاقت ہے۔ہم کو توغیر معمولی طور پر دوزمانوں میں حکومت ملی ہے۔خصوصاً و ہ زمانہ ترقی کا جو مسلمانوں کے زمانہ میں آیا۔و ہ توبہت ہی شاندار ہوگا۔اس پر انہیں خاص ناز ہوگا۔کیونکہ اسی سے مسلمانوں کامقابلہ ہوگا۔وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ اور(ایک دفعہ)وہ اپنی جان پر ظلم کرتے ہوئے اپنے باغ میں داخل ہوا۔(اوروہ اس طرح کہ )اس نے (اپنے تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ۰۰۳۶ ساتھی سے)کہا (کہ)میں نہیں سمجھتا کہ یہ کبھی تباہ ہو۔حل لغات۔تَبِیْدُ تَبِیْدُ بَادَ سے مضارع واحد مؤنث غائب کاصیغہ ہے۔اوربَادَ(یَبِیْدُ بُیُوْدًا) کے معنی ہیں ھَلَکَ کوئی چیز ہلاک ہوگئی۔(اقرب)پس مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِيْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًا کے معنی ہوں گے کہ میں خیال نہیں کرتا کہ وہ کبھی تباہ وہلاک ہو۔تفسیر۔عیسائی قوم کو اپنی آخری زمانہ کی ترقی پر ناز ہوگا اب فرماتا ہے کہ وہ اپنی حکومتوں اور