تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 524
اس نے اپنے ساتھی سے کہا کہ میرامال تجھ سے زیادہ ہے۔اورقوم کے لحاظ سے بھی تجھ سے زیادہ معززہوں۔اب میں اس تمثیل کی حقیقت بیا ن کرتاہوں۔سورۃ کے شروع میں بتایا گیاتھا۔کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے مکہ والوں کوخدا کاپیغام پہونچایا۔اوریہود کو پہنچانے والے ہیں۔اسی طرح آپ مسیحیوں کوبھی بیدار کرنے والے ہیں اورپھر مسیحی قوم کی ابتدائی تاریخ بتائی کہ یہ قوم ان حالات میں شروع ہوئی تھی۔کہ توحید کے لئے انہوں نے سخت سے سخت تکلیفیں اٹھائیں۔مگربعد میں مشرک ہوگئی اوردنیا کے پیچھے پڑ گئی۔اس تمثیل میں باغ سے مراد مسیحی قوم ہے اب اس تمثیل کے ذریعہ سے مسلمانوں اور مسیحیوں کے مقابلہ کا ذکر آتا ہے۔اس تمثیل میں باغ والے سے مراد مسیحی قو م ہے۔اورانگوروں کے باغ کی تمثیل اس لئے دی ہے کہ مسیحی قوم کوانگورکاباغ خود حضرت مسیح ناصر ی نے قراردیا ہے۔اوراس با غ کی تمثیل ان آیات کی تمثیل سے ملتی ہے۔حضرت مسیح کہتے ہیں ’’ایک شخص نے انگو رکاباغ لگایا۔اوراس کے چاروں طرف گھیرااورکولہو کی جگہ کھودی۔اورایک بُرج بنایا۔اوراسے باغبانوں کے سپرد کرکے پردیس گیا۔پھر موسم میں اس نے ایک نوکر کو باغبانوں کے پاس بھیجا۔تاکہ وہ باغبانوںسے انگور کے باغ کے پھل میں سے کچھ لے۔انہوں نے اسے پکڑ کے مارا۔اورخالی ہاتھ بھیجا۔اس نے دوبارہ ایک اورنوکر کو ان کے پاس بھیجا انہوں نے اس پر پتھر پھینکے۔اس کاسر پھوڑا۔اوربے حرمت کرکے پھیربھیجا۔پھراس نے ایک اورکوبھیجا۔انہوں نے اسے قتل کیا۔پھر اوربہتیروں کوان میں سے بعضوں کو پیٹا اور بعضوں کو مارڈالا۔اب اس کاایک ہی بیٹاتھا جواس کوپیاراتھا۔آخر کواس نے اسے بھی اس کے پاس یہ کہہ کر بھیجا کہ وے میرے بیٹے سے دبیں گے۔لیکن ان باغبانوں نے آپس میں کہا یہ وارث ہے۔آئوہم اسے مارڈالیں۔تو میراث ہماری ہوجائے گی۔اوانہوںنے اسے پکڑ کرقتل کیا۔اورانگورکے باغ کے باہر پھینک دیا۔پس باغ کامالک کیا کہے گا۔وہ آوے گااور ان باغبانوں کو ہلاک کرکے انگوروں کاباغ اوروں کو دےگا۔کیا تم نے یہ نوشتہ نہیں پڑھا۔کہ وہ پتھر جسے معماروں نے ناپسند کیا وہی کونے کاسراہوا‘‘(مرقس باب ۱۲ آیت ۱تا۱۰) اس تمثیل میں حضرت مسیح نے مذاہب کو انگور کے باغ سے تشبیہ دی ہے۔اورباغ کامالک خدا تعالیٰ کو بتایاہے۔با غ کے متعلق وہی تشریح ہے جو قرآن کریم میں ہے۔کہ بیچ میں انگوراورچاروں طرف باڑ۔صر ف یہ فرق ہے کہ قرآن کریم نے باڑ کے درختوں کانام بھی بتایا ہے جس سے زائد معنی پیداکردیئے ہیں۔غرض حضرت مسیح نے نبیوں کی مخاطب امتوں کو باغ بتایا ہے۔اوران کی نگرانی کرنے والے علماء اوربادشاہوں کومالی۔وہی معنی قرآن کریم میں ہیں۔باغ سے مراد عیسائیت ہے اورانگور سے مراد مال اوردولت اوراولاد کی زیادتی ہے۔اورکھجوروں سے مراد یہ