تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 523 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 523

مطابق بھی ا سی کوترجیح حاصل ہے صیغہ تثنیہ کالانا بہرحال جائز توہے۔پس میرااستدلال یہ ہے کہ اول توتثنیہ کاصیغہ استعمال کرنا انسب تھا کم سے کم جائز تھا۔اورلفظی طورپر انسب کو چھوڑ کردوسرے طریق کو اختیار کرنا قرآن کریم کے مسلمہ اصول کے مطابق ضرورکوئی معنوی حکمت رکھتا ہے۔اوراس کی مثالیں کثر ت سے قرآن کریم میں پائی جاتی ہیں۔کہ وہ جائز اورصحیح الفاظ اورضمائر کے انتخاب میں بھی حکمتوں اورنئے مضمونوں کومدنظررکھتاہے۔وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ يُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ اوراسے بہت پھل حاصل( ہوتا)تھا۔اسی وجہ سے اس نے اپنے ساتھی کو ا س سے باتیں کرتے ہوئے (فخریہ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا۰۰۳۵ طورپر)کہا(کہ دیکھ)تیری نسبت میرامال زیادہ اورجتھا معززہے۔حلّ لُغَات۔ثَمَرٌثَمَرٌکے لئے دیکھو ابراہیم آیت نمبر ۳۸۔الثَّمَرَاتُ- الثَّمَرَۃُ۔حَمْلُ الشَّجَرِ۔درخت کا پھل۔اَلنَّسْلُ۔نسل۔اَلْوَلَدُ۔لڑکا۔ثَـمَرَۃُ الْقَلْبِ۔اَلْمَوَدَّۃُ۔دوستی۔خُلُوْصُ الْعَھْدِ۔خالص عہد۔یُحَاوِرُہُ یُحَاوِرُہُ حَاوَرَ سے مضارع واحد مذکرغائب کاصیغہ ہے۔اورحَاوَرَہُ (مُحَاوَرَۃً) کے معنی ہیں جَادَ بِہِ اس سے بات چیت کی۔رَاجَعَہُ الْکَلَامَ اس کی بات کا جواب دیا (اقرب) اَعَزُّ اَعَزُّیہ عَزَّسے اسم تفضیل ہے اورعَزَّہُ(یَعُزُّ۔عَزًا)کے معنی ہیں۔قَوَّاہُ۔اس کی طاقت بڑھائی۔اسے تقویت دی۔غَلَبَہٗ۔اس پر غالب آگیا۔اورعَزَّ(یَعِزُّ عِزًّا)کے معنی ہیں صَارَ عَزِیْزًا وہ معززہوگیا زبردست ہوگیا۔قَوِیَ بَعْدَ ذِلَّۃٍ کمزور ہونے کے بعد طاقتور ہوگیا۔ضَعُفَ۔چونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔اس لئے اس کے معنی کمزورہوجانے کے بھی ہیں (اقرب) نفرًا:اَلنَّفَرُ:اَلنَّاسُ کُلُّھُمْ تمام لوگ مِنْ ثَلَاثَۃٍ اِلٰی عَشَرَۃٍ وَقِیْلَ اِلٰی سَبْعَۃٍ مِنَ الرِّجَالِ تین سے دس مردوں تک کاگرو ہ اوربعض کے نزدیک تین سے سات اشخاص تک کے گروہ کو نفر کہتے ہیں (اقرب) تفسیر۔كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ۔یعنی اس کی محنت کے بڑے بڑے نتیجے پیداہورہے تھے۔اس حالت کو دیکھ کر