تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 521 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 521

باغ کی تمثیل کی تشریح باغ کی تشریح ہم دنیاوی لحاظ سے مال و دولت سے کرسکتے ہیں۔اوردرختوں سے یہ مراد لے سکتے ہیں کہ وہ کھیت کی حفاظت کرتے تھے۔کیونکہ زمینداروں کے کھیت کی حد بندی درختوں سے اچھی طرح ہوسکتی ہے۔بے شک یہ بھی ایک تعبیر ہے۔جوہم اپنے ذہن سے کرسکتے ہیں۔لیکن ہم کیوں نہ علم تعبیر سے مدد لیں۔اورپھر قرآن کریم کو دیکھیں۔کہ کیا و ہ ان معنوں کی تصدیق کرتا ہے یانہیں۔علم تعبیرالرویا میں باغ دیکھنے کے متعلق لکھاہے۔وَرُبَّمَا دَلَّ الْبُسْتَانُ عَلَی الزَّوْجَۃِ وَالْوَلَدِ وَالْمَالِ وَطِیْبِ الْعَیْشِ وَزَوَالِ الْھُمُوْمِ۔۔۔۔۔عَلَی دَارِ السُّلْطَانِ الْجَامِعَۃِ لِلْجُیُوْشِ وَالْجُنُوْدِ (تعطیر الانا م زیر لفظ بستان) یعنے اگر کوئی خواب میں باغ دیکھے تواس سے مراد بعض دفعہ بیوی ،اولاد ،مال،زندگی کے اچھے سامان غموں کادور ہوناہوتاہے اوربعض دفعہ شاہی محل مراد ہوتاہے جس میں فوج اورلشکر جمع ہوتے ہیں۔یعنی چھائونیاں یا ہیڈکوارٹرز۔اورانگور خواب میں دیکھنا رزق حسن پر دلالت کرتاہے اورایسے دائم ووسیع رزق پر جس کاذخیرہ رکھا جائے۔اوراس نفع پر جوعورتو ں کے ذریعے پہونچے (تعطیر الانا م زیر لفظ عنب ) کھجور کی تعبیر کھجور کے متعلق لکھا ہے کہ مَنْ مَلِکَ نَخْلًا کَثِیْرًا فَاِنَّہُ یَتَوَلَّی عَلٰی رِجَالٍ بَقَدْرِذَالِکَ وَاِنْ کَانَ تَاجِرًا اِزْدَادَتْ تِـجَارَتُہٗ(تعطیر الانا م زیر لفظ نخل )یعنی جو خوا ب میں دیکھے کہ وہ کھجور کامالک ہواتواسی تعداد میں آدمیوں پر وہ حکومت کرےگا۔اوراگر و ہ تاجر ہوتواس کی تجارت میں زیادتی ہوگی۔پھلوں کے متعلق لکھا ہے وَالثِّـمَارُ کَرَامَۃٌ جدیدۃٌ طریَّۃٌیعنی تازہ بتازہ عزت کے سامان ملنا۔ومَنْ رَأَی اَنَّہٗ قَدْ زَرَعَ فِیْ اَرْضٍ فَھُوَ لِلسُّلْطَانِ سَعَۃٌ فِی مَمْلِکَتِہٖ۔۔۔وَالزَّرْعُ یَدُلُّ عَلَی الْعَمَلِ یعنی جودیکھے کہ اس نے کسی زمین میں کھیتی کی ہے۔تواگر وہ بادشاہ ہے تواس کی حکومت وسیع ہوگی۔اورباقی لوگوں کے لئے کھیتی سے مرادعمل ہوتاہے (تعطیر الانا م زیر لفظ زرع )۔نہر کے متعلق لکھا ہے کہ اس سے مراد عالیشان انسان ہوتا ہے۔(تعطیر الانا م زیر لفظ نہر )اسی طرح لکھا ہے کہ جوخواب میں دیکھے کہ اس کے گھر سے نہر نکلی ہے۔اس کی تعبیر یہ ہوگی کہ وہ نیک تعلیم دےگا جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں گے۔تواب یہ معنی ہوں گے کہ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ ہم نے ان میں سے ایک کے لئے دوباغ بنائے تھے یعنی مال اوراولاد عطا کی تھی۔اورمِنْ اَعْنَابٍ کے معنی دائم رہنے والے کے بھی ہیں۔پس مراد یہ ہے کہ ان کے مال اوراولاد کی ترقی لمبی ہوگی۔چنانچہ قرآن کریم اس کی تصدیق کرتاہے جیساکہ آگے فرمایا اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا۔کہ میں مال اورتعداد میں تجھ سے زیادہ ہو ں۔حالانکہ پہلی آیات میں تعداد کاکوئی ذکرہی نہ تھا وَحَفَفْنٰهُمَا