تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 510 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 510

بات کوبہرحال مقد م رکھناہوگا۔اس آیت میں بتایاگیاہے کہ لمبے مصائب سے گھبرانانہیں چاہیے۔ہم سے پہلے مسیحی جماعت کو تین سونوسال تک دکھ دئیے گئے۔لیکن انہوں نے صبرسے کام لیا اورآخر اس صبر کانہایت شیریں پھل کھایا۔پس تم کو جلدی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے کام میں لگے رہناچاہیے اوراستقلا ل سے مصائب کامقابلہ کرناچاہیے۔قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا١ۚ لَهٗ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ تو(انہیں )کہہ(کہ )جو(عرصہ)و ہ ٹھہرے رہے تھے اسے اللہ (تعالیٰ)بہترجانتاہے۔آسمانوں اورزمین کاغیب اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْ١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ١ٞ وَّ لَا (کاعلم )اسی کے لئے (مسلّم )ہے۔و ہ خوب ہی دیکھنے والا اورخوب ہی سننے والا ہے۔ان(لوگوں )کا اس کے يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا۰۰۲۷ سواکوئی بھی مددگار نہیں ہے۔اوروہ اپنے حکم (اوراپنے فیصلوں )میں کسی کو (اپنا )شریک نہیں بناتا۔حل لغات۔اَلْغَیْبُ غَیْبٌ غَابَ کامصدر ہے اورغَیْبٌ کے معنے کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر ۱۰۔غَابَتِ الشَّمْسُ وَغَیرُھَا: اِذَا اسْتَتَرَتْ عَنِ الْعَیْنِ غَابَ کا لفظ سورج کے لئے یا کسی اور چیز کے لئے اس وقت بولتے ہیں کہ جب سورج غروب ہوجاوے۔یا کوئی اور چیز آنکھوں سے اوجھل ہوجائے۔وَاسْتُعْمِلَ فِیْ کُلِّ غَائِبٍ عَنِ الْحَاسَۃِ جو بات حواس سے بالا اور پوشیدہ ہو اس پر بھی غیب کا لفظ اطلاق پاتا ہے۔اور شہادۃ کا لفظ غیب کے بالمقابل بولا جاتا ہے۔(مفردات) پس غیب اور شہادت کے دو معنی ہیں۔(۱) شہادۃ جو لوگ ظاہر کرتے ہوں۔اور غیب جسے وہ چھپاتے ہوں۔(۲)جو حواس ظاہری سے معلوم ہوسکے وہ شہادت ہے اور جو باتیں حواس سے بالا اور پوشیدہ ہیںوہ غیب ہے۔اَبْصِرْبِہِ واَسْمِعْ:دونوں فعل تعجب ہیں۔یعنی وہ کیا ہی خوب دیکھنے والا ہے۔اور کیا ہی خوب سننے والا ہے۔تفسیر۔قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا کہہ کر بتایاکہ مسیحیوں کی تاریخیں اس بیا ن کی مخالفت کریں گی جیسے کہ ان کے ہاں ۳۳۷ ؁ ءکی مدت لکھی ہے۔لیکن ان کی بات کااعتبار نہ کرنا اللہ جانتاہے کہ ان کی غلطی ہے۔چنانچہ بعدکی