تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 509 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 509

وَ لَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَ ازْدَادُوْا اور(یہ بھی کہتے ہیں کہ )وہ (اس)اپنی وسیع پہاڑی پنا ہ گاہ میں تین سوسال تک رہے تھے اور(اس عرصہ پر ) تِسْعًا۰۰۲۶ نو(سال)انہوں نے اوربڑھائے تھے۔تفسیر۔اصحاب کہف کے قیام غار کے عرصہ تین سو نو سال کا ثبوت اس آیت میں قدیم اصحاب کہف کی مصیبتوں کا زمانہ بتایاہے جس زمانہ تک کہ ان پر ظلم ہوتے رہے اوران کو بار بار غاروں میں جاکر چھپنا پڑا۔فرماتا ہے کہ و ہ تین سونوسال کا زمانہ ہے۔تاریخ سے اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ یہ مصائب کا زمانہ حضرت مسیح ؑ کے صلیب پانے کے وقت سے شرو ع ہوتاہے اورپوراامن کانسٹنٹائن (بانی قسطنطنیہ)کے عیسائی ہوجانے کے وقت حاصل ہواہے۔کانسٹسٹائن ۳۳۷ ؁ء میں عیسائی ہواہے جیسا کہ اوپر لکھاجاچکا ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Constantine) بظاہر یہ زمانہ قرآنی بیان کے خلاف معلوم ہوتاہے۔لیکن جب ہم مسیحی تاریخ پر غورکرتے ہیں تومعلوم ہوتاہے کہ یہ تاریخ غلط ہے۔مسیحی کیلنڈر کی غلطی اصل سال جس میں کانسٹنٹائن بادشاہ روم عیسائی ہوا ۳۰۹ ؁ ء ہے اوراس کاثبوت یہ ہے کہ خود مسیحی جغرافیہ نویسوں نے تسلیم کیاہے کہ مسیحی کلنڈر میں غلطی ہوگئی ہے چنانچہ آرچ بشپ اشرز (USHERS) نے اپنی کتاب علم تاریخ(CHRONOLOGY)میں اورڈاکٹر کٹو KITTO نے اپنی کتاب ’’ڈیلی بائبل السٹریشنز ‘‘ میں ثابت کیاہے کہ جوتاریخ مسیحی کلنڈر میں واقعہ صلیب کی دی گئی ہے وہ غلط ہے اوریہ غلطی ۵۲۷ ؁ء میں لگی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ اس تاریخ سے صرف چار یاچھ سال پہلے مسیح پیداہوئے تھے۔پس اس وقت ان کی عمر صرف چار سے چھ سال تک کی ہوتی ہے لیکن وہ صلیب پر تنتیس سال کی عمر میں لٹکائے گئے تھے۔اب اس بیان کے مطابق اگرچار اور چھ کی اوسط نکالی جائے توپانچ بنتی ہے۔چونکہ مسیح کوصلیب تینتیسویں سال میں دیاگیاتھا اس لئے مسیحی سن میں سے اٹھائیس سال منہاکرنے پڑیں گے کیونکہ مسیحی کلنڈر سے اٹھائیس سال بعد صلیب کاواقعہ ہواہے۔اب اٹھائیس سال کو ۳۳۷ ؁ء میں سے نکالوتوپورے ۳۰۹ ؁ء سال ہوتے ہیں۔یہ تومسیحی روایات کوصحیح تسلیم کرکے ہے ورنہ اگر یہ شہادت نہ بھی ہوتب بھی قرآن کریم جس کی سب خبریں بائبل کے مقابل میں صحیح ثابت ہوتی ہیں اس کی