تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 508 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 508

فقرہ کے کہنے کاحکم نہ دے۔پس آیت کا مطلب تو صرف یہ ہے کہ اس قوم کامقابلہ مسلمان اپنی طاقت سے نہ کرسکیں گے۔بلکہ وہ ان کامقابلہ کرسکے گا جسے اللہ تعالیٰ اپنی مشیت سے ان کے مقابلہ کے لئے کھڑاکرے گا۔مسلمانوں کی موجودہ حالت کی طرف اشارہ اس آیت میں مسلمانوں کی اس وقت کی حالت کی طرف اشارہ ہے جب وہ ان اقوام کی ترقی کو دیکھ کر جوش میں آئیں گے اوران کامقابلہ کرنے کی تیار یاں کریں گے۔لیکن وہ اس میں کامیا ب نہ ہوںگے۔دوسرے اس زمانہ کے مسلمانوں کی حالت بتائی ہے کہ وہ کام کی بجائے کَل کی امیدوں پر آجائیں گے اورہمیشہ یہ کہیں گے کہ ہم کَل یہ کردکھائیں گے یعنی قوت عملیہ مفقود ہوجائے گی اورڈراوے اوردھمکیاں رہ جائیں گی اورہمیشہ کل کالفظ بولتے رہیں گے کبھی وہ کل آج کی صورت اختیارنہ کرے گا۔چنانچہ دیکھ لوکہ اس زمانہ میں یہ صداقت ساری مسلمان اقوام کے اعمال سے ا س طرح ظاہر ہورہی ہے کہ افسوس بھی آتاہے اورتعجب بھی۔وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ کہہ کر یہ بتایا کہ اگر کبھی جوش میں آکر ان قوموں کے مقابلہ کاخیال تمہارے دل میں پیداہو تواللہ تعالیٰ کے وعدوں کویاد کرلیا کرو کہ خدا تعالیٰ کاوعدہ ہے کہ ایک دن مسلمانوں کو ان کے حملہ سے بچائے گااورغیب سے مسلمانو ں کی نجات کے ساما ن پیداکر ےگا۔اس لئے الٰہی تدابیر کے سوادوسری تدابیر کاخیال دل سے نکال دینا چاہیے۔مسلمانوں کو نصیحت کہ خدا کے فضل سے ہی اس قوم کے فتنوں سے بچو گے وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّيْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا میں بھی یہ سبق دیا کہ تمہاری ظاہر ی تدابیر توسینکڑوں سالوں میں ان اقوام کو تباہ نہیں کرسکتیں۔لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے بہت جلد ایسے سامان پیداکردے گا کہ تم ان فتنوںسے محفوظ ہوجائو۔افسوس مسلمانوں نے اس نصیحت سے بھی فائدہ نہ اٹھایا اوریوروپین اقوام کے مقابل پر با ربار جہاد کے اعلانات کرکے اسلام کے رعب کو او ربھی مٹادیا۔بلکہ جن خیر خواہوں نے ان کو اس قسم کی باتوں سے روکا ان کواسلام کادشمن قرار دیا اوریہ نہ سمجھے کہ جو قرآن کریم کی تعلیم کی طرف بلاتے ہیں وہ اسلام کے دشمن نہیں بلکہ وہ دشمن ہیں جوباوجود قرآن کریم کے منع کرنے کے پھر بھی غلط طریقہ کو استعمال کرتے چلے جاتے ہیں۔