تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 507
ونصاریٰ سے پوچھنے کی کوشش کی اوراس طرح تفاسیر میں بے ثبوت روایات کاوہ ذخیرہ جمع کردیا کہ اسے پڑ ھ کررونا آتاہے۔وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّيْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ۰۰۲۴ اورتُوکسی بات کے متعلق (دعویٰ سے)ہر گز نہ کہہ (کہ)میں کل یہ (کام)ضرور کروں گا۔سوائے اس( صورت ) اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ١ٞ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ کے کہ اللہ( تعالیٰ کسی امر کے متعلق ایسا کہنا )پسند کرے۔اورجب (کسی وقت)توبھول جائے تو(یاد آجانے پر ) وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّيْ لِاَقْرَبَ اپنے رب کو یاد (کیا )کر اور (لوگوں سے )کہہ دے (کہ مجھے کامل )امید ہے کہ میرار ب مجھے اس (راستہ ) مِنْ هٰذَا رَشَدًا۰۰۲۵ پرچلائے گا جوہدایت پانے کے لحاظ سے اس ( میرے موجود ہ طریق )سے (بھی تکمیل کے )زیادہ قریب ہوگا۔حلّ لُغَات۔الغد اَلْغَدُ کے معنے ہیں اَلْیَوْمُ الَّذِیْ یَاْتِیْ بَعْدَ یَوْمِکَ عَلٰی اَثَرٍثُمَّ تَوَسَّعُوْا فِیْہِ حَتّٰی اُطْلِقَ عَلَی الْبَعِیْدِ الْمُتَرَقَّبِ۔کل۔دوسرادن۔آئندہ زمانہ کاکوئی دن جس کا انتظار ہو(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں پھر اس قوم کی ترقی کے زمانہ کے متعلق ایک خبر دی ہے۔اورو ہ یہ کہ اس قوم کے مقابلہ پر دعویٰ نہ کرنا اوریہ نہ کہنا کہ بس ہم کل ان کوتباہ کردیں گے سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان کے متعلق کوئی خبردے یعنی الہام سے بتائے کہ ان سے اب فلاں سلوک ہونے والا ہے۔بعض لوگوں نے اس آیت کے یہ معنے کئے ہیں کہ اے محمد رسول اللہ کوئی بات بغیر اِنْ شَآءَ اللہُ کے نہ کہاکرو۔اورا س حکم کے متعلق بعض نہایت افسوسناک روایات نقل کی ہیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صریح ہتک ہے (ابن کثیر والقرطبی زیر آیت ھٰذا)۔حالانکہ آیت کے الفاظ صاف بتارہے ہیں کہ یہاںاِنْ شَآءَ اللہُ کہنے کاکوئی ذکر نہیں۔اگر وہ مضمون ہوتاتو الفا ظ یوں چاہیے تھے اِلَّا اَنْ تَقُوْلَ اِنْ شَآئَ اللہُ۔مگر یہاں تو