تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 501

اوراس میں مشورہ دینے والوں کے لئے اورجن کومشورہ دیاگیا ہے ان کے لئے جوجمع کاصیغہ استعمال کیاگیاہے اس سے میرے نزدیک اس طرف اشارہ ہے کہ یہ وفدبھیجے والی ایک کمپنی ہوگی کوئی بادشاہ یہ کام نہ کرے گا۔چنانچہ انگریزی وفد جوہندوستان آیا۔یافرانسیسی وفودجوآئے یہ سب کمپنیوں کی طرف سے تھے۔ان کاآقاکوئی ایک فرد نہ تھا بلکہ کمپنیا ں تھیں(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ India)۔اِنَّهُمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ يَرْجُمُوْكُمْ اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ (کیونکہ)اگر وہ تم پر غلبہ پالیں تویقیناً تمہیں سنگسارکردیں گے یا(جبراً )تمہیں واپس اپنے مذہب میں داخل کرلیں مِلَّتِهِمْ وَ لَنْ تُفْلِحُوْۤا اِذًا اَبَدًا۰۰۲۱ گے اوراس صورت میں کبھی (بھی )کامیاب نہیں ہوگے۔حلّ لُغَات۔یَظْھَرُوْاعَلَیْکُمْ ظَھَرَ (یَظْھَرُ عَلَیْہِ):غَلَبَہٗ۔اس پر غالب آیا۔ظَھَرَ فُلَانٌ عَلٰی سِرِّہٖ: اِطَّلَعَ عَلَیْہِ۔کسی بھید پرمطلع ہوا(اقرب) یَرْجُمُوْکُمْ:یَرْجُمُوْکُمْ رَجَمَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے۔رجم کے معنے کے لئے دیکھو سورۃ حجرآیت نمبر ۱۸۔رَجِیْمٌ رَجَمَ میں سے ہے۔اوررَجَمَہٗ رَجْمًا کے معنے ہیں :رَمَاہُ بِالْحِجَارَۃِ۔اس پر پتھر برسائے۔قَتَلَہُ اس کو قتل کیا۔قَذَفَہُ۔اس پر تہمت لگائی۔لَعَنَہٗ۔لعنت کی۔شَتَمَہُ۔گالی دی۔ھَجَرَہُ۔چھوڑ دیا۔ترک کردیا۔اَلْقَبَرَ :عَلَّمَہُ۔قبرپر نشان لگایا۔جَاءَ یَرْجُمُ کے معنے ہیں۔اِذا مَرَّ وَھُوَ یَضْطَرمُ فِی عَدْوِہٖ۔تیزی سے دوڑتا ہوا گزرا۔الرَّجُلُ:تَکَلَّمَ بِالظَّنِ ظنی بات کی۔(اقرب) الرَّجْمُ اَیْضًا اَنْ یَّتَکَلَّمَ بِالظَّنِ۔رجم کے معنے غیر یقینی بات کرنے کے بھی ہیں جیسے آیت رَجْمًۢا بِالْغَيْبِ میں رجم کے معنے ہیں۔لَایُوْقَفُ عَلیٰ حقِیْقَتِہٖ۔یعنی بات کی حقیقت سے واقف نہ تھا۔اِسمُ مایُرجَمُ بہٖ جس چیز سے ماراجائے اس کو بھی رجم کہتے ہیں۔اس کی جمع رُجُومٌ آتی ہے(اقرب) الرِجَامُ:اَلْـحِجَارَۃُ۔رِجَامٌ کے معنے پتھروں کے ہیں۔اوراَلرَّجْمُ کے معنے ہیں۔اَلرَّمْیُ بِالرِّجَامِ کسی کو پتھر مارنا۔جب کسی پر پتھرائو کیاجائے تو رُجِمَ بصیغہ مجہول استعمال کرتے ہیں۔وَیُسْتَعَارُ الرَّجْمُ لِلرَّمْیِ بِالظَّنِّ۔