تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 46
اورگویا آسمان سے دنیا کی سطح پر ان کو پھینک دیا ہے اوروہ دنیا میں بکھر گئے ہیں۔ایک ایسی صداقت ہے جوعلم الٰہی کے ذریعہ سے ہی ظاہر ہوسکتی تھی۔اب جبکہ دنیا قریباً سب کی سب دریافت ہوچکی ہے۔یہ صداقت کیسی کھل چکی ہے کہ دنیا کے تمام براعظموں میں پہاڑ دریا اورراستے پائے جاتے ہیں۔اور سب دنیا اس نعمت سے حصہ لے رہی ہے۔پس القٰی کے لفظ کو ان تین اشیاء کے متعلق مجازاً استعمال کر کے قرآن کریم نے ایک نئے معنے پیداکردیئے ہیں۔اورایک نئی صداقت ظاہر کردی ہے۔اور دوسرے مقامات پر جَعَلَ کے لفظ کے استعمال سے ان نادانوں کامنہ بھی بند کردیا ہے جو اس لفظ سے دھوکاکھاکر یہ کہہ سکتے تھے کہ قرآن کے روسے پہاڑ دریا اورراستے کہیں باہرسے لاکر زمین پر پھینک دئے گئے ہیں۔راستوں کے بنانے پر ایک سوال اور اس کا جواب ایک اورسوال اس جگہ ہوسکتا ہے کہ پہاڑ اور دریا تو قانون قدرت بناتا ہے۔ان کے ساتھ راستوں کاکیوں ذکر کیا ہے۔وہ توانسانوں کے بنائے ہوئے ہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ انسانی بنائی ہوئی سڑکوں کا ذکر نہیں وہ تودنیا کے ہرحصہ میں نہیں ہوتیں۔اس جگہ صرف ان راستوں کا ذکر ہے جو طبعی ذرائع سے بن جاتے ہیں۔مثلاً دریائوں کی وجہ سے یاپہاڑوں کی وجہ سے یاجنگلوں کی وجہ سے۔اوریہی راستے ہیں جوعام ہیں اورجن سے سب دنیا فائدہ اٹھاتی ہے خصوصاً پرانے زمانہ میں فائدہ اٹھاتی تھی۔افغانستان اورہندوستا ن کی سرحد سینکڑوں میل تک ملی ہوئی ہے مگرہرحصہ اس کاراستہ نہیں۔راستے صرف چند ہیں۔جو پہاڑی درّوں کی مناسبت سے بن گئے ہیں۔یہی حال چینی ہندوستانی سرحد کااور ہندوستانی برہمی سرحد کاہے۔اورسب ممالک کا یہی حال ہے۔اصل بات یہ ہے کہ شہروں کے درمیان تو سڑک کابنانااپنے اختیار میں ہوتاہے مگر علاقوں اورملکوں کے درمیان سڑکوں کا بنا نا اپنے اختیار میں نہیں ہوتا۔بلکہ اس کاتعلق دریائوں سے پار ہونے کی سہولت ،پہاڑوں کے درّوں یاجنگلوں کے کناروں سے ہوتاہے۔اورہمیشہ سے دنیا ان راستوں کواستعمال کرتی چلی آئی ہے۔گوان جگہوں پر کوئی سڑک نہیں بنی ہوئی تھی۔صرف قدرتی سہولتوں کی وجہ سے لوگوں نے ان راستوں کو اختیار کرلیا تھا۔اورہزاروں سالوں سے آج تک وہ راستے کام دے رہے ہیں اوران کے ذریعہ سے پرانے زمانہ میں تجارت ہوتی تھی۔ایک ملک سے دوسرے ملک پرچڑھائی ہوتی تھی۔ہندوستان پر جس قدر حملے شمال پر ہوئے ہیں دیکھ لو صرف چنددرّوں سے ہوئے ہیں(تاریخ صوبہ سرحد از محمد شفیع صاحب اشاعت اول جون ۱۹۸۶ء ناشر یونیورسٹی بک ایجنسی خیبر باز ار پشاورصفحہ ۵۲،۵۵)۔ہندوستان میں آریہ قوم پھیلی ہے۔توپہلے اسی طبعی راستہ پر چل کر جو پنجاب کے دریائوں کے ساتھ ساتھ چلتاتھا۔اورپھراس راستہ پر چل کر جو جمناگنگا کے کنار ے پرجاتاتھا۔یاان