تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 478
ان روایا ت سے جو مسلمانوں کی کتب اور مسیحیوں کی کتب میں آئی ہیں یہ بات توثابت ہوجاتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے پہلے اصحاب کہف کے قصے سے ملتے ہوئے واقعات لوگوں میں مشہور تھے۔لیکن ان میں اس قدر اختلاف تھا کہ جیساکہ قرآن کریم فرماتا ہے ان پر اعتبار نہیں کیاجاسکتا۔کیونکہ جھوٹ سچ ان میں ملاہواتھا۔ان روایات کے علاوہ مفسرین نے ایسی بہت سی روایات بھی لکھی ہیں جن میں کتے کے حالات بیان کئے گئے ہیں۔یہاںتک کہ کہا گیا ہے کہ جنت میںصرف دوحیوان ہوں گے ایک اصحاب کہف کاکتا اورایک بلعم کاگدھا۔صاحب فتح البیان اس قسم کی بعض روایات نقل کرکے لکھتے ہیں لَااَدْرِیْ اَیَّ تَعَلُّقٍ لِھٰذَالتَّدْقِیْقِ وَالتَّحْقِیْقِ بِتَفْسِیْرِ الْکِتَابِ الْعَزِیْزِ وَمَاالَّذِیْ حَمَلَھُمْ عَلٰی ھٰذَا الْفُضُوْلِ الَّذِیْ لَامُسْتَنَدلَہٗ فِی السَّمْعِ وَلَافِی الْعَقْلِ (زیر آیت وتحسبہم ایقاظا و ھم۔۔۔)یعنی میں نہیں سمجھتا کہ اس نام نہادتدقیق اور تحقیق کا تعلق قرآن کریم کی تفسیر کے ساتھ کیا ہے۔اور ان مفسرین کو ان لغویا ت کے نقل کی طرف جن کا نہ کوئی عقلی ثبوت ہے نہ نقلی۔کیوں رغبت ہوئی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ کی تحقیقات اصحاب کہف کے متعلق سابق مفسرین کے خیالات لکھنے کے بعد میں استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین خلیفہ اول جماعت احمدیہ ؐ کی تحقیق اس بارہ میں لکھتا ہوں۔آپ کا خیال تھا کہ اصحاب کہف ابتدائی زمانہ کے مسیحیوں میں سے ایک موحد جماعت تھی۔ان لوگوںنے شرک کی اشاعت سے ڈرکر کسی دوسرے ملک کاسفر کیا۔اور وہاں مدتوں تک گمنامی میں پڑے رہے۔آخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ترقی دی اور سب دنیا میں پھیلادیا۔آپ کاخیال تھا کہ اس واقعہ میں یوسف آرمیتیا کے ایک سفر کی طرف اشارہ ہے جب کہ وہ اپنے بعض ساتھیوں کو لے کر انگلستان چلے گئے تھے۔وہاں انہوں نے پہلے مسیحی گرجا کی بنیاد رکھی (حقائق الفرقان زیر آیت اذ اوی الفتیۃ۔۔۔)۔آپ کااشارہ اس روایت کی طرف ہے جوانگلستان میں صدیوں سے مشہور چلی آتی ہے۔اور وہ یہ ہے کہ فلپ حواری نے یوسف آرمیتیا اور چند اورلوگوں کو انگلستان تبلیغ کے لئے بھجوایاتھا۔وہاں انہوں نے GLOSTONBURYکے مقام پر ایک گرجابنایا اور عیسائیت کی تبلیغ شروع کی(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ GLOSTONBURY) یہ قصہ’’ گلاسٹبنری کے گرجا کی قدامت‘‘ نامی کتاب میں مذکور ہے جوولیم نامی ایک شخص نے جو مالمس بری MALES BURY کاباشندہ تھا گیارہ سو پچیس عیسوی میں لکھا تھا۔لیکن اس کے اس نسخہ میں جو