تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 476 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 476

بادشاہ بت پرست تھا۔اوراس نے حکم دے رکھا تھا کہ جوشہر میں داخل ہوپہلے درواز ہ پرنصب کئے ہوئے بت کو سجدہ کرے انہوں نے ایسانہ کیا۔اورشہر کے باہر ایک حمام میں ٹھیر گئے اور وہیں تبلیغ شروع کردی۔جس کی وجہ سے کئی لوگ ان کے ہم خیا ل ہوگئے۔ایک دن بادشاہ کالڑکا ایک فاحشہ کو لے کر حما م کرنے کے لئے آیا۔اس حواری نے اسے نصیحت کی۔و ہ اس دن رک گیا۔دوسری دفعہ پھر آیا توانہوں نے اسے ڈانٹا اس نے بات نہ مانی اوراس فاحشہ سمیت حمام میں چلا گیا۔صبح کے وقت و ہ مردہ پایا گیا۔بادشاہ کو لوگوں نے کہا کہ حمام والے نے ماردیا ہے۔بادشاہ نے تحقیق شروع کی۔حمام والا بھاگ گیااوراس کے سب دوست بھی۔کچھ نوجوا ن جو مسیحی ہوچکے تھے وہ بھی ڈر کر بھاگے اورایک زمیندار کے پاس جوان کادوست تھا گئے وہ بھی ان کا ہم خیال تھا۔وہ ان کو لے کر ایک غار میں جا چھپا۔بادشاہ کو علم ہوا۔تو و ہ پکڑنے گیا۔اس سے آگے وہی لوگوں کے ڈرنے اوربادشا ہ کے دیوار بنانے کاواقعہ ہے۔(اَخرجَہٗ عبدالرزاق وابن المنذر عن وھب بن منبہ۔روح المعانی زیر آیت ھذا) ابن المنذر اورابن ابی شیبہ اورابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ میں حضرت معاویہؓ کے ساتھ رومیوں کے مقابلہ پر جہاد کے لئے گیا تھا۔اس سفر میں ہم نے اصحاب کہف کی غار دیکھی۔معاویہؓ نے کچھ لوگ اس غار کو دیکھنے کے لئے بھیجے مگر آندھی آگئی اور وہ لو گ اند ر نہ جاسکے۔(درمنثور زیر آیت ھذا) ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب کہف کی ہڈیا ں دیکھیں۔و ہ تین سو سال کی پرانی تھیں (درمنثور زیر آیت ھذا) اصحاب کہف کے متعلق تفاسیر کے واقعات ان کے انجام کے متعلق مندرجہ ذیل روایات کتب تفسیر میں بیان کی گئی ہیں۔(۱)ایک لمبے عرصہ تک اللہ تعالیٰ نے ان کو سلائے رکھا پھر جگادیا۔انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص کو کھانا لینے بھیجا۔اس نے دوکاندار کوجوسکہ دیا۔اسے دیکھ کروہ حیران رہ گیاکیونکہ وہ سکہ پراناتھا۔ا س نے اَوردکانداروں کودکھایا۔سب اس سکہ کو دیکھ کرحیران ہو ئے کہ یہ کس ملک کاسکہ ہے۔آخر بادشاہ تک معاملہ پہنچا جس کانام نندوسیس تھا۔بادشاہ نے اس نوجوان سے سب واقعہ سنا اوراس کے ساتھ غار تک آیا۔وہاں سب اصحاب کہف سے ملا اوران سے بغلگیر ہوا۔کچھ دیر باتیں ہو ئیں۔پھر اصحاب کہف نے اس کونصائح کیں اور لیٹ گئے اوراسی وقت مر گئے (روح المعانی وابن کثیر سورۃ الکہف زیر آیت و کذالک اعثرنا علیہم) (۲)بعض دوسری روایات میں آتاہے کہ جب لوگ غار پر پہنچے تووہ لوگ اسی وقت مرگئے۔اوروہ ان کو زندہ نہ دیکھ سکے۔اورجو کھانالینے گیاتھا وہ بھی وہاں پہنچ کر مرگیا۔(عبدالرزاق وابن ابی حاتم عن عکر مۃؓ درمثورزیر آیت ھذا)