تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 475 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 475

الْمَبْدَإِ وَالْغَایَۃِ۔وَلِذٰلِکَ قَالَ بَعْضُھُمْ اَلْمَدٰی وَالْاَمَدُ یَتَقَارَبَا نِ۔اورزمان اورامد کے لفظ کے درمیان یہ فرق ہے کہ امد کالفظ انتہا ء کااعتبا رکرتے ہوئے بولاجاتاہے۔اورزمانہ عام ہے۔وہ مبداء پر بھی اورانتہاء پر بھی بولاجاتا ہے۔اس فرق کے پیش نظر بعض نے مدی اورامد کو متقارب المعنی قراردیاہے (مفردات) تفسیر۔اصحاب کہف کون تھے کہاں تھے؟ اصحاب کہف کون تھے ؟ کہاں تھے اوران کے حالات کیا ہیں؟یہ ایک نہایت اہم سوال ہے جو صدیوں سے مفسرین کے دلوں میں ہیجان پیداکر تاچلاآیا ہے۔میں اس سوال کوحل کرنے کے لئے سب سے پہلے بعض روایات بیان کرتاہوں جواصحا ب کہف کے متعلق پرانے مفسرو ں نے بیان کی ہیں۔اصحاب کہف کے حالات (۱)مشہور مؤرخ ابن اسحا ق اوربعض دوسرے مصنفوں نے یہ لکھا ہے کہ جب مسیحیوں میں شر ک پیداہوگیا۔بتوں کی پوجا اور ان کے لئے قربانی شروع ہوگئی توان میں سے کچھ لوگوںکو جوموحد تھے یہ امر برالگا۔اس زمانہ میں دقیانوس نامی مسیحی بادشاہ تھا۔بعض روایات میں اس کانام دقیوس آیا ہے۔یہ بادشاہ موحد نصاریٰ کو قتل کرتا تھا انہی ایا م میں موحد نصاریٰ میں سے کچھ امراء نوجوانوں کو جوافیوس یا بعض روایا ت میں لکھا ہے کہ طرسوس کے رہنے والے تھے شاہی سپاہیوں نے پکڑ لیااوربادشاہ کے سامنے پیش کیا۔ا س نے انہیں بتوں کو سجدہ نہ کر نے پر ڈانٹا۔مگر وہ توحید پر قائم رہے۔اس پر بادشاہ نے ان کوکچھ مہلت دی کہ اس عرصہ میں سوچ لو۔انہوں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھا اوروہاں سے بھاگ کر ایک غار میں چھپ گئے جس کانام منجلوس تھا۔باقی توعبادت میں مشغول ہوگئے اوراپنے میں سے ایک کو جس کانام یملیخاتھا۔سوداسلف لانے پرمقر کردیا۔و ہ بھیس بدل کر شہر میں جاتااورسودالے آتا۔ایک دن اسے معلوم ہواکہ بادشاہ جو باہرکسی مہم پر گیا ہواتھا واپس آگیا ہے اوراس نے ان نوجوانوں کو پھر طلب کیا ہے۔و ہ روتاہواآیا اورسب کو اس کی خبر دی۔انہوں نے خوب روروکردعائیں کرنی شروع کیں۔جب دعائیں ختم ہوئیں تواللہ تعالیٰ نے ان کو سلادیا۔ان کاسامان ا ن کے سرہانے پڑاتھا اورکتادہلیز پرتھا۔بادشاہ نے ان کاپتہ لے کر ان کا پیچھا کیا۔مگرجب غار میں بعض لوگوں کوبھیجا توکوئی غار میں نہ جاسکا۔اس پر ایک مصاحب نے کہا کہ اے بادشاہ آپ کی غرض ان کومار نا ہی توہے۔آپ اس غار کے دروازہ پر دیوار کھینچوادیں آپ ہی بھوکے پیاسے مر جائیں گے۔بادشا ہ نے اس کے مشورہ کے مطابق دیوار کھنچوادی۔اس کے بعد وہ کچھ گذراجو اللہ تعالیٰ نے اگلی آیات میں بیا ن فرمایا ہے۔(روح المعانی زیر آیت ھذابحوالہ ابن اسحاق) (۲)بعض نے لکھا ہے کہ حضرت مسیح ؑ کے ایک حواری تھے وہ سفر کرتے ہوئے ایک ایسے شہر میں پہنچے جس کا