تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 474
میں رکھ کر باقی لوگوں کے حال سے ناواقف رکھا۔ان کومعلوم نہ ہوتاتھا کہ زمانہ کاکیاحال ہے۔(اصحاب کہف کون تھے اس کے لئے دیکھو اگلی آیت ) ثُمَّ بَعَثْنٰهُمْ لِنَعْلَمَ اَيُّ الْحِزْبَيْنِ اَحْصٰى لِمَا لَبِثُوْۤا پھر ہم نے انہیں اٹھایاتاکہ ہم جان لیں کہ جتنی مدت وہ (وہاں )ٹھہرے رہے تھے اسے دونوں گروہو ںمیں سے اَمَدًاؒ۰۰۱۳ زیادہ محفوظ رکھنے والا کون ساگروہ ہے۔حلّ لُغَات۔بَعَثْنَا۔بَعَثْنَابَعَثَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اوربَعَثَ کے لئے دیکھو حجر ۳۲۔یُبْعَثُوْنَ بَعَثَ سے جمع مذکر غائب مجہول کاصیغہ ہے۔اوربَعَثَہٗ(یَبْعَثُ بَعْثًا)کے معنے ہیں اَرْسَلَہٗ اس کو بھیجا۔بَعَثَہُ بَعْثًا: اَثَارہٗ وَھَیَّجَہٗ۔اس کو اُٹھایااورجوش دلایا۔بَعَثَ اللہُ الْمَوْتٰی:اَحْیَاھُمْ اللہ نے مردوں کو زندہ کیا۔بَعَثَہٗ عَلی الشَّیْءِ حَمَلَہٗ عَلٰی فِعْلِہِ۔اس کو کسی کام کے کرنے پر اُکسایا۔اَلْبَعْثُ۔النَّشْرُ اُٹھانا۔(اقرب) الحِزْبَیْنِ۔اَلْحِزْبَیْنِ اَلْحِزْبُ سے تثنیہ کاصیغہ ہے اورالحزب کے لئے دیکھو رعد آیت نمبر۳۶۔اَلْحِزْبُ کے معنے ہیں اَلطَّائِفَۃُ۔گروہ۔جَمَاعَۃُ النَّاسِ لوگوں کی جماعت۔جُنْدُ الرَّجُلِ وَاَصْحَابُہُ الَّذِیْنَ عَلٰی رَأیِہٖ۔ایسے دوست اور ساتھی جو ہم خیال اور ہم رائے ہو۔النَّصِیْبُ۔حصہ۔کُلُّ قَوْمٍ تَشَاکَلَتْ قُلُوْبُھُمْ وَاَعْمَالُھُمْ فَھُمْ اَحْزَابٌ وَاِنْ لَمْ یَلِقْ بَعْضُہُمْ بَعْضًا۔تمام وہ لوگ جن کے اعمال اور دل آپس میں مشابہ ہوں۔اگرچہ وہ آپس میں ملے نہ ہوں۔احزاب کہلاتے ہیں۔(اقرب) الامد۔اَلْاَمَدُکے معنے ہیں اَلْغَایَۃُ۔آخری حد غایت و انتہاء (اقرب)۔اَلْاَمَدُوَالْاَبَدُیَتَقَارَبَانِ لٰکِنِ الْاَبَدُ عِبَارَۃٌ عَنْ مُدَّۃِالزَّمَانِ الَّتِیْ لَیْسَ لَھَا حَدٌّ مَحْدُوْدٌ وَلَایَتَقَیّدُ۔وَالْاَمَدُ مُدَّۃٌ لَھَاحَدٌّ مَجْھُوْلٌ۔اَمَد اورابَد تقریباًایک جیسے ہی معنے رکھتے ہیں لیکن ابد اس زمانہ کو کہتے ہیں جوغیر محدود ہو۔اورامد اس مدت کو کہتے ہیں جس کی انتہاء معلوم نہ ہو۔والْفَرْقُ بَیْنَ الزَّمَانِ وَالْاَمَدِ أَنَّ الْاَمَدَ یُقَالُ بِاِعْتِبَارِالْغَایَۃِ وَالزَّمَانُ عَامٌ فِی