تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 473
اِذْ اَوَى الْفِتْيَةُ اِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوْا رَبَّنَاۤ جب وہ (چند )نوجوان وسیع غار میں پناہ گزین ہوئے اور(دعاکرتے ہوئے )انہوں نے کہا (کہ )اے ہمارے اٰتِنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً وَّ هَيِّئْ لَنَا مِنْ رب ہمیں اپنے حضور سے (خاص )رحمت عطاکر۔اورہمارے لئے ہمارے(اس )معاملہ میں اَمْرِنَا رَشَدًا۰۰۱۱ درست روی کاسامان مہیا کر۔حلّ لُغَات۔اَوَی۔اَوَی اِلٰی مَنْزِلِہِ وَمَنْزِلَہُ کے معنے ہیں نَزَلَ بِہ لَیْلًااَوْنَھَارًا وہ اپنے مقام میں رات کو یادن کو اترا۔(اقرب) الفِتْیَۃُ۔اَلْفِتْیَۃُ اَلْفَتیٰ کی جمع ہے اوراَلْفَتٰی کے معنے ہیں اَلشَّابُ الْحَدَثُ۔نوجوان۔اَلسَّخِیُّ الْکَرِیْمُ۔فیاض اورسخی (اقرب) الرّحمۃ۔الرَّحْمَۃُ رِقَّۃُ الْقَلْبِ وَالْاِنعِطَافِ یقْتَضِی التَّفَضُّلَ وَالْاِحْسَانَ وَالْمَغْفِرَۃَ۔رقت قلب جو ترس احسان اوربخشش کی مقتضی ہو تی ہے۔نیز رحمت کے معنے مغفر ت کے بھی ہوتے ہیں (اقرب) تفسیر۔رشدکے معنی ہدایت کے ہیں مگررَشد زیادہ تر دینی امورمیں اوررُشد دینی اوردنیوی امور کی ہدایت کے لئے آتاہے (اقرب)۔پس دعا کامطلب یہ ہواکہ اے اللہ ہمارے لئے اس معاملہ میں آزادی اور کامیابی کارستہ نکال۔فَضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ فِي الْكَهْفِ سِنِيْنَ عَدَدًاۙ۰۰۱۲ جس پر ہم نے اس وسیع غار میں چند گنتی کے سالوں کے لئے انہیں (بیرونی حالات کے )سننے سے محروم کردیا۔حلّ لُغَات۔ضَرَبَ عَلٰی اُذْنِہٖ۔مَنَعَہُ اَنْ یَسْمَعَ۔اس کو سننے سے روک دیا (اقرب) تفسیر۔ضَرَبْنَا عَلٰۤى اٰذَانِهِمْ کے معنے ہیں ہم نے ان کو سننے سے روک دیا۔یعنی کچھ سال تک ان کو کہف