تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 43
تَحَرَّک و زَاغَ۔کسی چیز نے حرکت کی اورایک طرف پر مائل ہوگئی۔یُقَالُ مَادَتْ بِہِ الْاَرْضُ: دَارَتْ اور مَادَتْ بِہِ الْاَرْضُ کامحاورہ بول کریہ معنی مراد لیتے ہیں کہ زمین نے اپنے چکر کھانے کے ساتھ ا سے بھی چکر دیا۔السَّرَابُ:اضْطَرَبَ سراب نے حرکت کی۔(اقرب)پس اَنْ تَمِیْدَبِکُمْ کے معنے ہوں گے کہ اس ڈر سے کہ زمین متحرک ہوتے ہوئے تمہیں چکر میںنہ ڈالے۔ا س ڈرسے کہ تم کو اضطراب میں نہ ڈالے۔ہماری زبان اور عربی زبان میں فرق ہے ہم کہتے ہیں کہ اس ڈر سے کہ فلاں کام نہ ہوجائے۔اورعرب کہتے ہیں اس ڈر سے کہ ایسا ہو جائے۔گویا وہ ’نہ‘ کو محذوف کردیتے ہیں۔تفسیر۔انہار، سبل اور رواسی کے ساتھ القی کے لفظ کا استعمال اس آیت میں اَلْقٰى کالفظ استعمال کرکے اس کے بعد رَوَاسِیَ، اَنْھَارًا اورسُبُلًا تین چیزوں کو بیان فرمایا ہے۔گویاسب کاعامل اَلْقٰى کالفظ ہے۔اَلْقٰى کے عام معنے پھینکنے کے ہوتے ہیں۔اگران معنوں کو مدنظر رکھاجائے توآیت کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ زمین میں پہاڑ دریا اورراستے پھینکے۔اَلْقٰى کے عام معنوں کے مدنظر اس پرایک اعتراض اوراس پر اعتراض ہوتاہے کہ پہاڑ توزمین میں سے نکلے ہیں اوردریا ایک جگہ سے دوسری جگہ تک پانی لے جاتے ہیں اورراستے چلنے کی جگہ کانام ہے۔پھر ان کے پھینکنے کے کیا معنے ہوئے۔بعض نے اس کا جواب یہ دیاہے کہ اَلْقٰى کا لفظ صرف رَوَاسِيَ کے ساتھ لگتاہے۔باقی دولفظوں سے پہلے جعل کالفظ محذوف ماناجائے گا۔اوراس کے یہ معنے ہوں گے کہ پہاڑ پھینکے اوردریا اورراستے بنائے۔دونوں اشیا ءکی مشارکت کی وجہ سے دونوں کا ایک ہی فعل کا عامل ہونا اس میں کوئی شک نہیں کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب دواشیاء ایک ساتھ بیان ہوتی ہیں۔تومشارکت کی وجہ سے ایک ہی فعل کو دونوں کاعامل بنادیاجاتا ہےاوردوسرافعل محذوف سمجھا جاتا ہے۔(فتح البیان زیر آیت ھذا) جیسے کہ ایک عرب شاعر کاشعر ہے قَالُوْا اقْتَرِحْ شَیْئًا نُجِدْ لَکَ طَبْخَہٗ قُلْتُ اطْبُخُوْا لِیْ جُبَّۃً وَّ قَمِیْصَا (کلیات ابو البقاء فصل المیم) یعنی کہنے والوں نے کہا کہ آپ ہم سے کچھ خواہش کریں۔توہم آپ کے لئے کوئی کھانااچھی طرح تیار کریں گے۔میں نے کہا کہ ہاں کھانابھی پکائواورجُبّہ اورقمیص بھی پکائو۔اس جگہ پکائو کالفظ ہی جُبّہ اورقمیص کے ساتھ لگادیاگیا