تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 41

ذکر کیا تھا یاان چیز وں کا جن سے انسان خشکی پر بھی فائدہ اٹھا سکتاہے۔اب تری کا ذکر کیا اورسمند کے مسخرہونے کا ذکر فرمایا۔سمند رکے لفظ کو بھی تسخیر کے لفظ سے شروع کیا۔کیونکہ سمند ر بھی انسان کے تصرف میں نہیں ہوتا۔بلکہ انسان محض اس سے فائدہ اٹھاتاہے۔مگررات، دن، سورج، چاند، ستاروںکی تسخیر کے ذکر میں مُسَخَّرٰتٌۢ بِاَمْرِهٖ فرمایاتھا۔سمندر کے سوا ستاروں کی تسخیر کے ساتھ بامرہ کا لفظ لگانے کا مطلب سمندر کے ذکر میں بِاَمْرِهٖ نہیں فرمایا۔اس لئے نہیں کہ اس کی تسخیر اللہ تعالیٰ کے حکم سے نہیں ہوتی۔بلکہ اس وجہ سے کہ اجرام فلکی سے فائدہ اٹھانے کے لئے انسان کچھ بھی کام نہیں کرتا۔پس ان کی تسخیر کامل طور پر بِاَمْرِهٖ ہوتی ہے مگرسمندر سے فائدہ اٹھانے میں کشتی، جال وغیرہ انسان بناتاہے اس لئے وہاں امر کالفظ نہ رکھا۔ورنہ یوں تو ہر کام بِاَمْرِهٖ ہی ہوتاہے۔سمندر کی تسخیر کے ذکر کی وجہ سمندر کی تخلیق بھی انسانی ضرورتوں کے پوراکرنے کا ایک بہت بڑاذریعہ ہے۔اس میں بہت سے خزانے محفوظ رہتے ہیں۔جواس کے بغیر محفوظ نہ رہ سکتے تھے۔مثلاً وہ پانی کاذخیر ہ جمع رکھتاہے۔جہاںسے پھر سورج اس کو اُٹھا کرلاتا ہے۔پھر اس کے ذریعہ سے سفروں میں سہولت ہوتی ہے۔خشکی کے سفر سے وہ بہت زیادہ سستاہوتاہے۔جوملک سمندر کے کنارہ پر ہوتے ہیں وہ بہت زیادہ تجارتی اورسیاسی ترقی کرسکتے ہیں۔کیونکہ سمندر کسی کے قبضہ میں اس طرح نہیں آسکتا جس طرح خشکی قبضہ میں ہوتی ہے۔سمندر حریت کے قائم رکھنے کا ایک ذریعہ ہے اس طرح سمندر گویا حریت کے محفوظ رکھنے کاایک ذریعہ ہے۔پس سمندر کی مثال دی کہ سمندر بھی تمہاری ضرورت کو پوراکرنے کے لئے بنایا ہے۔اور اس میں بھی دیکھو کہ تمہاری غذا کاسامان رکھا ہے۔مچھلی وغیرہ کاتازہ گوشت تم کو مل جاتاہے۔اب کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ خدا تعالیٰ تمہارے جسم کے لئے توخشکی تری میںسفر کی سہولتیں بہم پہنچائے مگر دین کے لئے وہ کچھ بھی نہ کرے۔اور کیا پھر یہ اس سے بھی عجیب بات نہیں کہ تم دنیاوی سامانوں کو توشوق سے قبول کرولیکن روحانی سامانو ں کے وقت کہو کہ خدا تعالیٰ کو اس کی کیا ضرورت ہے کہ وہ ہمارے لئے روحانی ترقی کا کوئی سامان پیداکرے۔صداقتیں اسی وقت فائدہ مند ہو سکتی ہیں جب وہ صاف کرکے استعمال کے قابل بنا دی جائیں اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ انسانی ضرورتوںکوپانی پوراکرتاہے اوریہ پانی زمین میں سمندر کی صورت میں موجود بھی ہے۔لیکن باوجود اس کے اس پانی سے انسان پینے کافائدہ نہیں اٹھاسکتا۔کھیتوں کو سیراب کرنے کافائد ہ نہیں اٹھا سکتا۔مگر اللہ تعالیٰ اس پانی سے مچھلی جیسی اعلیٰ غذاپیداکرتا ہے اوراس پانی کو سورج کے ذریعہ سے اٹھا کر