تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 443

آخر میں فرمایا کہ تجھے بھی موسیٰ کی طرح بشیر و نذیر بناکر ہم نے بھجوایاہے۔پس جس طرح اس کی قوم نے ترقی کی۔اسی طرح تیری قوم بھی ترقی کرے گی۔اورجس طرح اس کے دشمن ہلاک ہوئے تیرے دشمن ہلاک ہوں گے۔وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ اور(اسے )قرآن بناکر (اُتاراہے )اس حال میں کہ ہم نے اسے (کئی)ٹکڑوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تُواسے تَنْزِيْلًا۰۰۱۰۷ (سہولت اور)آہستگی کے ساتھ لوگوں کوپڑھ کرسناسکے اورہم نے اسے تھوڑاتھوڑاکرکے نازل کیاہے۔حلّ لُغَات۔فَرَقْنٰہُ۔فَرَقَ بَیْنَہُمَا:فَصَلَ اَبْعَاضَہُمَا۔دوچیزوں کے ٹکڑوں کو علیحدہ علیحدہ کیا۔فَرَقَ لَہُ عَنِ الشَّیْءِ:بَیَّنَہٗ۔اسے کھو ل کربا ت بتائی (اقرب) وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰہُ اَیْ بَیَّنَّا فِیْہِ الْاَحْکَامَ وَ فَصَّلْنٰہُ۔وَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ کے معنے ہیں ہم نے اس میں احکام بیان کئے ہیں۔اوراس کے جداجداحصے بنائے ہیں۔وَقِیْلَ اَنْزَلْنٰہُ مُفَرَّقًا اورفَرَقْنٰہُ کے یہ معنی بھی کئے گئے ہیں۔کہ ہم نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اُتارا ہے۔(مفردات ) مُکْثٍ مُکْثٍ مَکَثَ یَمکُثُ کامصدرہے۔مَکَث کے معنی ہیں۔لَبِثَ۔رُکا۔ٹھہرا۔رَزُنَ۔آہستہ وباوقار ہوا(اقرب)اَلْمُکْثُ۔ثُبَاتٌ مَعَ إِنْتِظَارٍ۔ایسا توقف جس میں انتظا ر بھی ہو (مفردات ) تفسیر۔قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُکے معنے ہیں کہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے ناز ل فرمایا ہے۔یعنی ایک ہی وقت میں کئی کئی سورتوں کی آیات اُترتی رہتی ہیں۔اورپھر پہلی اتری ہوئی سورۃ پیچھے کردی جاتی ہے اوربعد کی پہلے۔اس پر جو اعتراض پڑتاتھااس کاجوا ب دیا ہے کہ ایسااس لئے کیا گیاہے کہ تُواسے اپنی جگہ ٹھہر کرپڑھ سکے یعنی تیرے اندر بے اطمینانی او رگھبراہٹ پیدانہ ہو۔یہ جوا ب دیکھو اعتراض کرنے والوں کے لئے کیسامسکت ہے۔تنزیل قرآن میں عارضی اور مستقل ضرورت دونوں کو ملحوظ رکھا گیا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب دو قسم کے تھے۔ایک عارضی یعنی ا س وقت کے کفار اورایک مستقل یعنی مومن اوربعد میں آنے والے لوگ۔مستقل ضرورت کے لئے قرآن کریم کی اَورترتیب چاہیے تھی اورعارضی ضرورت کے لئے اور۔مستقل ضرورت کے لئے جن سورتوں کو آخر میں نازل کرناچاہیے تھا۔عارضی ضرورت کے لئے ان کی فوری ضرورت تھی۔