تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 442 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 442

عرصہ کے لئے ان کے ہاتھ سے نکل جائے گی تواس وقت اللہ تعالیٰ پھر تم کو اس ملک میں واپس لے آئے گا۔چنانچہ دیکھ لو اسی طرح واقعہ ہواہے۔جس طرح بخت نصرکے وقت میں پہلی دفعہ ارض مقدس یہود کے ہاتھ سے نکلی۔اسی طرح صلیبی جنگوں کے وقت مسلمانوںکے ہاتھ سے نکلی(دی نیو انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Crusade)۔پھر جس طرح موسیٰ سے تیرہ سوسال بعد حضرت مسیح ؑ کے صلیب کے واقعہ کے بعد جبکہ گویاوہ بظاہر اس ملک کے لوگوں کے لئے مرگئے تھے۔بنی اسرائیل کو ارض مقد س سے دوبارہ بے دخل کردیاگیا۔اسی طرح اس زمانہ میں جبکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر اتنا ہی عرصہ گذراہے مسلمانوں کی حکومت پھر ارض مقد س سے جاتی رہی ہے۔اورجیساکہ قرآن کریم نے فرمایاتھا مسلمانوں کایہ دوسراعذاب یہودکے لئے ارض مقدس میں واپس آنے کاذریعہ بن گیا ہے۔تفسیر فتح البیان کے مصنف اس آیت کے متعلق لکھتے ہیں کہ بعض علما ء کے نزدیک وَعْدُالْاٰخِرَۃ سے اس جگہ مسیح موعود کانزول مراد ہے ان علماء کایہ قول میری تفسیر کی تائید کرتاہے۔وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا اوراس (قرآن )کو ہم نے حق(وحکمت)کے ساتھ ہی اتاراہے۔اورحق (وحکمت )کے ساتھ ہی یہ اُتراہے وَّ نَذِيْرًاۘ۰۰۱۰۶ اورہم نے تجھے صرف بشارت دینے والااور(عذاب سے )آگا ہ کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔تفسیر۔یعنی یہ خبر ضرورپوری ہو کررہے گی۔چونکہ موسیٰ ؑ کی پیشگوئی کے سلسلہ میںرسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس پیشگوئی کا ذکر بھی آگیا۔کہ مسلمانوں پر بھی دوکٹھن زمانے آنے والے ہیں۔اس لئے اس آیت سے اس مضمون کی تائید کی گئی ہے۔آنحضرتؐ کی وحی میں دخل شیطان کی تردید اس آیت سے ضمناً اس خیال کی بھی تردیدہوتی ہے۔جولوگ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں شیطان دخل دے دیتاتھا۔کیونکہ فرماتا ہے کہ ہم نے قرآن کوحق سے اتاراہے اوروہ محمد رسول اللہ تک حق سے ہی اُتراہے۔پس جبکہ قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک حق سے اترآیاتوشیطان کو دخل دینے کاموقعہ کب ملا۔