تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 437

َبَضَہٗ کسی چیز کوہاتھ سے پکڑا۔اَمْسَکَ الْمَتَاعُ عَلٰی نَفْسِہِ۔مال اپنے لئے روک رکھا۔اَمْسَکَ عَنِ الْاَمْرِ : کَفَّ عَنْہُ وَامْتَنَعَ۔کسی امر سے رک گیا۔(اقرب) قتورًا۔قَتُوْرًا یہ قَتَـرَ سے مبالغہ کاصیغہ ہے۔قَتَرَ عَلی عَیَالِہِ :ضَیَّقَ عَلَیْھِمْ فِی النَّفَقَۃِ۔اہل وعیال کے خرچ میں تنگی کی۔قَتَرَالشَّیْءَ۔ضَمَّ بَعْضَہُ اِلَی بَعْضٍ۔کسی چیز کواکٹھا کیا اورجوڑ جوڑ کررکھا۔اَلْقَتُوْرُ اَلْمُضَیِّقُ عَلٰی عِیَالِہِ فِی النَّفَقَۃِ۔اپنے خانگی خرچ میں بخل کرنے والا۔اَلْبَخِیْلُ۔کنجو س (اقرب) الانفاق۔اَنْفَقَ الرَّجُلُ کے معنے ہیں اِفْتَقَرَوَ فَنِیَ زَادُہُ۔وہ مفلس ہوگیا۔اوراس کاخرچ ختم ہوگیا۔اَنْفَقَ مَالَہُ۔صَرَفَہُ وَأَنْفَدَہُ۔اس نے اپنامال خرچ کرکے ختم کردیا (اقرب)پس اَلْاِنْفَاقُ کے معنے ہوںگے (۱)مفلس ہوجانا (۲)مال خرچ کردینا (۳)مال کا خرچ ہوجانا۔تفسیر۔یہاں پھر قُلِ الرُّوْحُ والے مضمو ن کی طرف رجوع کیا ہے۔اوربتایاہے۔کہ خدائی الہام اور روحانیوں میں یہ فرق ہے کہ خدا کاکلام لانے والے توبے دریغ آسمانی خزانے لٹاتے ہیں۔اورانہیں حکم ہوتاہے کہ بَلِّغْ بَلِّغْ۔لیکن یہ روحانی کہلانے والے اسراء اوراشار وں میں عمر بسر کرتے ہیں قسمیں لے لے کر اپنے شاگردوں کو گربتاتے ہیں یہ لوگ دنیاکے لئے ہادی اورراہنما کس طرح ہوسکتے ہیں۔یہ مرض آج کل کے صوفیا ء میں بھی پیداہوگیاہے۔ایک دفعہ میں نے ذکرالٰہی کے متعلق تقریر کی۔اوراس کے بہت سے طریقے اورفائدے بیان کئے۔ایک صاحب نے دوران تقریر میں رقعہ لکھا کہ آپ کیاغضب کررہے ہیں۔ان میں سے ایک ایک نکتہ صوفیا ء دس دس سال خدمت لے کر بتایاکرتے تھے۔آپ ایک ہی مجلس میں سب راز کھولنے لگے ہیں۔حق یہ ہے کہ مذہب میں کوئی راز نہیں۔اللہ تعالیٰ اپنے سب بندوں کے متعلق یہ چاہتاہے کہ وہ اس کے قرب کے اعلیٰ درجوں کوحاصل کریں اوراسے بندوں کی ترقیات میں روک ڈالنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں کیونکہ وہ غیرمحدود ہے۔اوراس تک پہنچنے کی منازل بھی غیر محدود ہیں اسے یہ ڈر نہیں کہ ایک دن علم ختم ہوجائے گا۔اورپھر میرے پاس بنانے کو کچھ نہ رہے گا۔اورمیں اور میرے بندے برابر ہوجائیں گے۔لیکن یہ نام نہاد روحانی ایک محدود علم رکھتے ہیں جس کااکثر حصہ جھوٹاہوتاہے۔وہ اگراپنی سب باتیں بتادیں تودوسرے ہی دن ان کوپوچھنے والاکوئی نہ رہے۔چنانچہ آئے دن یہ نظارے نظر آتے ہیں کہ ایک پیر نے دوسرے کو خلیفہ بنایااوراس نے جھٹ جاکر الگ گدی بنالی۔مگرخدارسیدہ شخص کا کوئی شاگرد اس پر ایما ن رکھتے ہوئے جدانہیں ہوسکتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کاعلم جوخدا سے آتاہے کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔اس لئے اس سے جدائی اپنے علم کی ترقی روکنے کے مترادف