تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 434

جائیںگے۔اس آیت کا بھی یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ کفار مونہوں کے بل گھسیٹ کرڈالے جائیں گے۔بخاری اورمسلم میں انس ؓ سے روایت ہے کہ اِنَّ الَّذِیْ اَمْشٰھُمْ عَلَی اَرْجُلِھِمْ قَادِرٌ عَلَی اَنْ یُمْشِیَہُمْ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ (مسند احمدمسند المکثرین من الصحابۃ مسند أنس بن مالک) کہ جس خدا نے ان کو پائوں کے بل چلایا ہے۔وہ اس بات پربھی قادر ہے کہ ان کومونہوں کے بل چلائے۔پھر ایک روایت میں ہے کہ تین طرح حشرہوگا۔کچھ سوارہوںگے۔کچھ پیدل اوراوربعض مونہوں کے بل(روح المانی زیر آیت ھذا) ایک اورروایت میں ہے تُجَرُّوْنَ عَلٰی وُجُوْھِکُمْ۔دوزخیوںکوان کے مونہوں کے بل گھسیٹاجائے گا۔(روح المانی زیر آیت ھذا) معلوم ہوتا ہے کہ سوار توانبیاء ہیں اورپیدل چلنے والے مومن ہیں اورمونہوں کے بل گھسیٹے جانے والے کافرہیں۔چونکہ آخرت میں ہرچیز ایک انعکاسی رنگ رکھے گی۔اس لئے ان کے وہ اعمال جن کو وہ دنیا میں کرتے ہوئے خدا تعالیٰ کی طرف نظر نہیں رکھتے تھے۔بلکہ سفلی اورارضی اغراض پر ان کی نظر ہوتی تھی۔قیامت کے دن ان پر اس رنگ میں متمثل ہوں گے کہ اوندھے منہ زمین پر چلیں گے۔منہ کے بل چلنے کے معنے دوڑنے کے بھی ہیں (۲)عربی کا ایک اورمحاورہ ہے۔مَرَّ الْقَوْمُ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اَیْ اَسْرَعُوْا۔یعنی وہ قوم دوڑ کرچلی گئی۔اس محاور ہ کے روسے آیت کے یہ معنے ہوں گے کہ قیامت کے دن جب ہم ان کا حشرکریں گے توو ہ دوڑ رہے ہوں گے جیسے دوسری جگہ فرماتا ہے مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ (ابراہیم:۴۴)کہ کفا ر سراٹھائے ہوئے دوڑے چلے جائیںگے۔اس میں گھبراہٹ کی کیفیت کااظہار کیا ہے۔یعنی اس وقت ان میں بے اطمینانی او رگھبراہٹ پائی جائے گی۔انسان کو نیت کے مطابق اجر (۳)اَلْوَجْہُ کے معنے عربی زبان میں مَایَتَوَجَّہُ اِلَیْہِ الْاِنْسَانُ مِنْ عَمَلٍ وَغَیْرِہٖ۔اَلْقَصْدُ وَالنِّیَۃُ کے بھی ہوتے ہیں۔یعنی وہ کام جن کی طرف انسان توجہ کرتے ہیں اورقصداورنیت کو بھی وجہ کہتے ہیں۔ان معنوں کی روسے آیت کایہ مطلب ہوگاکہ ان کے مقاصد اورنیتوں کے مطابق ہم ان کاحشر کریں گے۔اگران کامقصد الٰہی سلسلوں سے دشمنی کرناتھا۔تووہاں بھی وہ خدا تعالیٰ سے دور اوراس کے دشمنوں کے ساتھ رکھے جائیں گے۔گویاہرانسان اپنی اپنی نیت کے مطابق جزاء پائے گا۔چونکہ اگلے جہان کے متعلق کفار کاکوئی مقصد نہیں ہوتا۔اس لئے فرمایاکہ وہ وہاں اندھے گونگے اور بہرے ہوں گے۔خَبَت سے یہ مراد نہیں کہ آگ بجھ جائے گی۔بلکہ بعض دفعہ کوئی مصیبت زیادہ دیر رہے توحس مٹ جاتی ہے۔