تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 430 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 430

بعض توتماشے کے طورپرہیں جو خدا کی شان کے خلاف ہیں۔اس قسم کی باتوں سے اللہ تعالیٰ پاک ہے وہ توروحانیت کی ترقی کے لئے کلام نازل کرتا ہے اوربعض باتیں بشریت اوررسالت کے خلاف ہیں مثلاً آسمان پرجانا اوروہاں سے کتاب کاپھینکنا۔باوجود اس آیت کے مسلمان مانتے ہیں کہ عیسیٰؑ آسمان پر ہیں۔حالانکہ وہ بشر رسول تھے نہ کہ ملائکہ میں سے۔وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰۤى اِلَّاۤ اوران لوگوںکوجو ان کے پاس ہدایت پہنچی ایمان لانے سے صرف اس بات نے روکاکہ انہوں نے(اپنے دلوں اَنْ قَالُوْۤا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا۰۰۹۵ میں ) کہا (کہ)کیاا للہ(تعالیٰ)نے ایک بشر کو رسول بناکر بھیج دیا ہے۔تفسیر۔پہلی آیت میں بتایاتھاکہ میں توبشر رسول ہوں۔اس سے زیادہ میراکوئی دعویٰ نہیں۔انبیاء کے بشر رسول ہونے کے اعتراض کا جواب اب اس آیت میں بتایاگیا ہے کہ انبیاء پر جو بڑے بڑے اعتراض ہوتے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ بشر رسول ہیں۔یہ اعتراض ایک نہیں بلکہ ان الفاظ میں کئی قسم کے اعتراض آجاتے ہیں۔بعض لوگوںکویہ اعتراض ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ جو بڑی شان کاہے بشرکو رسول بناہی کیونکر سکتاہے۔یہ لوگ کلام الٰہی کے نزول ہی کے منکر ہوتے ہیں۔بعض لوگ بشر رسول کے منکر تکبر اور ضد کی وجہ سے ہوتے ہیں۔یعنی وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم بھی ایسے ہی انسان ہیں۔جیساکہ یہ ہے اگراللہ تعالیٰ نے کلام بھیجنا تھا۔توہم سب پر نازل کرتا۔اسے کیوں مخصوص کیا گیا۔اس لئے ہم اسے نہیں مان سکتے۔یہ لوگ کلام الٰہی کے نزول کوناممکن قرار نہیں دیتے بلکہ اپنے آپ کوبڑاسمجھنے کی وجہ سے یہ نہیں تسلیم کرسکتے کہ اللہ تعالیٰ ان جیسے بڑے آدمیوں کی طرف بقول ان کے ایک گھٹیا درجے کے انسان کو پیغام دے کرکیوں بھجوائےگا۔ایک تیسراگروہ بشررسول کاانکار اس وجہ سے کرتاہے کہ اس کے نزدیک بشراپنی ذات میں کامل ہے۔اور کسی بشر کوالہا م کی ضرورت نہیں۔بلکہ اپنی جبلّی طاقتوں کی وجہ سے وہ اپنے لئے خود صحیح راستہ تلاش کرسکتاہے۔ایک چوتھاگروہ بشررسول پر اس لحاظ سے معترض ہوتاہے کہ ان کے نزدیک رسول کے لئے بشریت سے زیادہ طاقتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ان کے سامنے ایک کمزور سے کمزور وجود کو یہ کہہ کر پیش کردوکہ یہ مافوق الانسانیت طاقتیں رکھتاہے۔توفوراً ا س کے ماننے کے لئے