تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 428 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 428

زورسے جوچاہیں کرسکتے ہیں۔اس زمانہ میں بھی بعض علماء نے یہ طریق اختیار کررکھاتھا۔کہ بانی سلسلہ احمدیہ کے پاس آدمی بھجواتے کہ جاکر دوچار لاکھ روپے مانگو۔اورجب و ہ انکار کریں توکہنا کہ مسیح کی نسبت آتا ہے کہ دولت لٹائیں گے۔آ پ کادعویٰ بھی مسیح ہونے کاہے۔کیاآپ چندلاکھ روپیہ بھی نہیں دے سکتے۔اَوْ تُسْقِطَ السَّمَآءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا اَوْ تَاْتِيَ یاجیساکہ تیرادعویٰ ہے توہم پرآسمان کے ٹکڑے گرائے یااللہ (تعالیٰ)اورفرشتوں کو (ہمارے ) بِاللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ قَبِيْلًاۙ۰۰۹۳ آمنے سامنے لاکھڑاکرے۔حلّ لُغَات۔کِسَفًا یہ کِسْفۃٌ کی جمع ہے۔ا س کے معنے ہیں۔اَلْقِطْعَۃُ مِنَ الشَّیْءِ۔کسی چیز کا ٹکڑا۔(اقرب) قبیلا اَلْقَبِیْلُ کے معنی ہیں اَلْجَمَاعَۃُ مِنَ الثَّلَاثَۃِ فَصَاعِدًا تین یاتین سے زیادہ آدمیوں کی جماعت اور رَأَیْتُہُ قَبِیْلًا کے معنے ہیں رَأَیْتُہُ عِیَانًا وَمُقَابَلَۃً کہ میں نے اسے اپنی آنکھوں سے آمنے سامنے دیکھا (اقرب) تفسیر۔یعنی انعامات نہیں لا سکتے چلوعذاب ہی سہی۔آسمان ہم پرگرادو ،خدااورفرشتوں کوسامنے لائو کہ آکر ہمیں تباہ کردیں۔کفار کے مطالبات مندرجہ آیت بطور تمسخر ہیں استاذی المکرم حضرت خلیفہ اولؓ فرمایاکرتے تھے کہ یہ وعدے قرآن کریم میں موجود ہیں اس لئے وہ ان کامطالبہ کرتے ہیں مگرمیرے نزدیک وہ مطالبہ نہیں کرتے بلکہ تمسخر کے رنگ میں یہ باتیں پیش کرتے ہیں۔کیونکہ ان معنوں میں سے اکثر مدنی سورتوں میں بیان ہوئے ہیں اوریہ مکی سور ۃ ہے۔دراصل کفار تمسخر کے رنگ میں کہتے ہیں کہ جب سب کچھ قرآن میں موجود ہے تواس کے زور سے چشمے چھوڑدو اورباغ لگائویا عذاب ہی لائو۔کیونکہ ان کے ذہن میں یہ وہم سمایاہواتھا کہ جادواورکلام کے زورسے ان باتوں کو پیدا کیاجاسکتاہے۔یہود کابھی یہی خیال تھا جیساکہ پہلے لکھا جاچکاہے۔