تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 425
ہے کہ قرآن کریم دنیاسے اٹھ جائے گا۔اورصرف لَااِلٰہَ اِلَّااللہُ رہ جائے گا۔اسی طرح بیہقی اورابن ماجہ نے حذیفہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام اورقرآن دنیاسے اٹھ جائیں گے (ابن ماجہ کتاب الفتن باب ذھاب القرآن والعلم ،شعب الایمان للبہیقی باب فی نشر العلم)۔ان رویات سے معلوم ہوتاہے کہ اس آیت میں ایک پیشگوئی بھی کی گئی ہے۔اوربتایا گیا ہے کہ ایک وقت میں صرف قرآن کریم کے الفاظ رہ جائیں گے۔مگر حقیقت مٹ جائے گی۔اورجھوٹے صوفی جوارواح سے تعلقات کے دعوے کرتے ہیں قرآن کے معارف کوواپس نہ لاسکیں گے۔میراہمیشہ یہ طریق ہے کہ ان جھوٹے صوفیوں کے بارہ میں یہ کہاکرتا ہوں کہ قرآن کریم کی مشکل آیات میں ان کے سامنے رکھتا ہوں وہ اپنی ارواح سے ان کے مطالب حل کرکے ہمیں بتادیں۔اگر قرآنی علوم انہوں نے معلوم کرلئے توسچے ورنہ جھوٹے۔مگریہ کام نہ آج تک کوئی کرسکانہ کرسکتاہے۔اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا۰۰۸۸ اپنے رب کی (خاص )رحمت کے سوا(کہ وہی اسے واپس لاسکتی ہے۔مگریہ قرآن مٹ نہیں سکتاکیونکہ )تجھ پرتیرے ر ب کایقیناً(بہت )بڑافضل ہے تفسیر۔تیرے رب کافضل تجھ پر بڑاہے۔جب قرآن کریم دنیاسے اٹھ جائے گا۔توپھر تیرارب ہی اس کو لائے گا۔اس سے مراد یہ ہے۔کہ اس کی مثل لاناتو الگ رہا اس کے علوم کے مخفی ہونے پر کوئی شخص بغیر الٰہی مددکے ان کوظاہر بھی نہیں کرسکتا۔قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَ الْجِنُّ عَلٰۤى اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ تو(انہیں )کہہ(کہ )اگر تمام انسان(بھی)اورجن (بھی اس کی نظیر لانے کے لئے )جمع ہوجائیں۔هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَ لَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ تو(پھر بھی)وہ اس کی مثل نہیں لاسکیں گے۔خواہ وہ ایک د وسرے کے لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا۰۰۸۹