تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 422
کفار کے آنحضرت ؐ سے روح کے متعلق سوال کرنے کی وجہ اس تمہید کے بعد میں یہ بتاناچاہتاہوں کہ جب قرآن کریم نے غیب کی خبریں بتائیں۔اورکفار نے جواب سے عاجز آکر یہود سے اس بار ہ میں مدد چاہی توانہوں نے ان سے کہا کہ اس شخص سے روح کے متعلق سوال کرویعنی روح میں کیاکیا قوتیں ہیں۔اس سوال کے جواب سے وہ پکڑاجائے گا۔ان کاخیال تھاکہ اگر توآپ یہ جواب دیں گے۔کہ روح میں بڑی بڑی طاقتیں ہیں۔جن سے وہ علم غیب معلوم کرلیتی ہے۔توہم کہیں گے کہ پھر قرآنی علوم کو ہم خدا تعالیٰ کی طر ف سے کیوں سمجھیں۔کیوںنہ اسے آپ کی بعض روحانی مشقوں کانتیجہ قرار دیں۔اوراگر آپ یہ جواب دیں گے کہ روح میں کوئی ایسی طاقت نہیں ہے۔توہم آپ کے اس جواب پر آپ کی جہالت کوثابت کریں گے۔گویا ان کے نزدیک قرآنی علوم محض ایک دماغی مشق کانتیجہ تھے۔اس امر کاثبوت کہ یہود میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے زمانہ میں ارواح سے تعلق پیداکرنے کا خیال پایاجاتاتھا۔قرآن کریم سے بھی ملتا ہے۔چنانچہ سورئہ جن میں ایک ایسی جماعت کا ذکر کرکے جوموسیٰ پر ایمان لائی تھی اورجن کی نسبت میں پہلے ثابت کر آیا ہوں۔کہ وہ انسان ہی تھے۔ان کایہ قول نقل فرمایا ہے۔اَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ( الجن :۱۰)کہ ہم آسمانی خبروں کومعلوم کرنے کے لئے آسمان کی طرف توجہ کرکے بیٹھاکرتے تھے۔یعنی مراقبہ کیاکرتے تھے۔اگریہود ایساسوال نہ کرتے تب بھی قرآن کریم میں اس سوال پر روشنی ڈالنی ضرو ری تھی۔کیونکہ یہ عقیدہ درحقیقت سب سچے مذہبوں پرحملہ ہے۔اوراس سے یہ ظاہرہوتاہے کہ خدا تعالیٰ کے بتائے بغیر بھی انسان ارواح کی مدد سے ہدایت کے اصول دریافت کرسکتاہے۔جیساکہ تھیاسوفی والے ظاہر کرتے تھے۔اوراس عقیدہ کے روسے ہرشخص جو بعض نام نہاد روحانی مشقیں کرے۔علوم غیبیہ سے آگاہ ہوسکتا ہے۔ظاہر ہے کہ اگر یہ عقیدہ صحیح ہو تومذہب کے بارہ میں امن بالکل اٹھ جاتا ہے۔روح کے امر ربی ہونے کی تشریح قرآن کریم اس سوال کا جواب یہ دیتا ہے کہ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْ۔اے محمد! رسول اللہ توان سے کہہ دے کہ روح کامل یعنی جوروح خدا تعالیٰ سے صحیح تعلق رکھتی ہے اوربعض علوم غیبیہ سے آگاہ کی جاتی ہے مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم سے تیارہوتی ہے۔بغیر امر رب کے کوئی روح کامل نہیں ہوسکتی۔اورجس قسم کی مشقوںا ورجادوئوںاور یوگاکوتم روح کے کامل کرنے کاذریعہ بتاتے ہو۔یہ بالکل غلط خیا ل ہے۔روح صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم سے کامل ہوتی ہے گویا اس جگہ الروح سے مراد کامل روح ہے جوسب