تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 408
سے بدلوادے۔مقام محمود کاہی ایک کرشمہ ہے۔میں نے اسی خدمت میں حصہ لینے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے حالات بیان کرنے کے لئے سال میں ایک دن مقررکیا ہواہے جس میں ہر مذہب و ملت کے لوگ اپنے ان تاثرات کو بیان کرتے ہیں۔جوآپ کے حالات پڑ ھنے سے ان کے دلوں پر پڑتے ہیں۔اقم الصلوٰۃ الآیتین۔نماز پنجگانہ اورتہجد کے ذکر کے بعد جو مقام محمود کا ذکرکیا ہے۔اس میں اس طرف اشار ہ ہے کہ جس شخص کے دشمن زیادہ ہو ںاوربدگولوگوں کی تعداد بڑھ جائے اس کایہ علاج نہیں۔کہ وہ ان سے الجھتاپھرے۔بلکہ ایسے وقت میں انابت الی اللہ اوربارگاہ الٰہی میں فریاد کرنا ہی ان فتنوںکودورکرتاہے۔بلکہ اگرانابت بہت بڑھ جائے تومذمت تعریف سے اورگالیاں دعائوںسے بدل جاتی ہیں چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ایسا ہی ہوا۔کہ جو لوگ آپ کو گالیاں دیتے تھے ایک دن عاشق صاد ق ہوگئے۔عمرو بن عاص۔خالد۔عکر مہ۔مردوں میں سے اور ہندہ عورتوں میں سے اس کی زبردست مثالیں ہیں۔یہ لوگ آپ کی دعائوں سے ہی کھنچ کر آگئے۔ورنہ جس قدر عداوت ان کے دل میں تھی۔اس کادور کرنا انسانی بس کی بات نہ تھی۔آنحضرت ؐ کی زندگی کا ہر واقعہ تاریخ میں موجود ہے بعض نادان کہتے ہیں کہ معلوم ہوتاہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی زندگی میں (نعوذ باللہ من ذالک) کوئی نقص تھا تب ہی تو آپ کو اتنی گالیا ںدی جاتی ہیں۔میں کہتا ہوںیہ بات نہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو گالیاں کسی عیب کی وجہ سے نہیں۔بلکہ حضور کی خوبیوں کی وجہ سے دی جاتی ہیں۔دنیاکے کسی اورنبی کو تمام انسانوں کے لئے اسوہ حسنہ نہیں بنایاگیاتھا۔اس لئے کسی نبی کی زندگی کے مکمل سوانح محفوظ نہیں کئے گئے۔اگردنیا کے مذہبی پیشوائوں میں سے کسی پیشواکی زندگی کے حالات تفصیلاً موجود ہیں۔تووہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہیں۔آپ کی زندگی کاہرواقعہ تاریخ میں موجود ہے۔آپ کاکھانا۔آپ کاپینا۔آ پ کاچلناپھرنا اور بولنا اوربیٹھنا غرض ہرحرکت و سکون آپ کا محفوظ کرلیا گیا ہے۔گویا جس طرح سے کسی شخص کی تلاشی لی جاتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضورکے اعمال وخیالات کواکٹھاکرکے دنیا کے سامنے پیش کردیا ہے۔اس کے باوجود آپ کے دشمنوں کے سامنے میدان میں جمے رہنا اورعقل سے کام لینے والوں کی نگاہ میں عزت پاجاناکوئی معمولی معجز ہ نہیں۔اوراگریہ عزت جوپورے امتحان کے بعدحاصل ہوئی ہے مقام محمود نہیں کہلا سکتی توپھر کوئی اورعزت مقام محمود نہیں کہلاسکتی۔حق یہ ہے کہ آپ کی زندگی کے صرف ایک دن کے واقعات کے برابربھی دوسرے نبیوں کی عمر بھر کے واقعات محفوظ نہیں۔پس ایسے مخفی وجودوں کی زندگی پر کوئی جرح کرے توکیاکرے۔پس کسی قوم کااس پر خو ش ہوناکہ اس کے نبی پر اس قدراعتراض نہیں ہوتے کوئی معقول خوشی نہیں۔