تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 406
وَ مِنَ الَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ١ۖۗ عَسٰۤى اَنْ يَّبْعَثَكَ اوررات کو بھی تو اس(یعنی قرآن )کے ذریعہ سے کچھ سولینے کے بعد شب بیداری کیاکر۔جوتجھ پر ایک زائدانعام رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا۰۰۸۰ ہے (اس طرح پر )بالکل متوقع ہے۔کہ تیرارب تجھے حمد والے مقام پر کھڑا کردے۔حلّ لُغَات۔فَتَھَجَّدْ۔ھَجَدَ یَھْجُدُ ھُجُوْدًا سے باب تفعل کا واحد مذکر امر کاصیغہ ہے۔ھَجَدَ الرَّجُلُ: نَامَ بِاللَّیْلِ آدمی رات کوسویا۔وَسَھِرَ رات کوبیداررہا۔وَفِی اللِّسَانِ تَھَجَّدَ الْقَوْمُ: اِسْتَیْقَظُوْا لِلصَّلوٰۃِ اَوْغَیْرِھَا۔لسان العرب میں لکھا ہے۔کہ تَھَجَّدَ الْقَوْ مُ کے معنی لوگوںکے سونے کے بعدنماز وغیرہ کے لئے بیدار ہونے کے ہیں(اقرب) نافلۃً نَفَلَ۔(یَنْفُلُ۔نَفْلًا)الرَّجُلُ فُلَانًا :اَعْطَاہُ نَافِلَۃً مِنَ الْمَعْرُوْفِ مِمَّالَایُرِیْدُ ثَوَابَہُ مِنْہُ یعنی ایک شخص نے دوسرے پر ایسی بخشش کی جس کے بدلے کا اس سے خواہش مند نہیں۔نَفَلَ الْاِمَامُ الْجُنْدَ : جَعَلَ لَہُمْ مَاغَنَمُوْا۔امام نے لشکر کو مال غنیمت دے دیا۔لفظ نافلہ نفل سے اسم فاعل مؤنث بمعنی مفعول ہے۔یعنی دی ہوئی چیز۔دیاہواانعام اَلنَّافِلَۃُ کے معنی(۱) اَلْغَنِیْمَۃُ۔غنیمت۔(۲)اَلْعَطِیَّۃُ۔بخشش۔(۳)مَاتَفْعَلُہُ مِمَّالَایَجِبُ۔فرض سے زائدعمل کرنا۔(۴)وَلَدُالْوَلَدِ۔پوتا۔اس کی جمع نَوَافِلُ آتی ہے (اقرب) تفسیر۔تَـهَجَّدْ بِهٖ میں ہٖ کی ضمیر قرآن کریم کی طر ف پھر تی ہے اورمراد یہ ہے کہ اس نماز میں تلاوت قرآن پرخاص زورہونا چاہیے۔تہجد کے معنے سوکراٹھنے کے ہوتے ہیں۔اس لئے تہجد کی نماز سے پہلے سوناضروری ہے۔جولوگ ساری رات جاگنے کے چلّے کھینچتے ہیں۔وہ عباد ت نہیں کرتے۔شریعت کے منشاء کو باطل کرتے ہیں۔ایسی عباد ت قرآن کریم کے منشاء کے خلاف ہے۔رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمیشہ پہلی رات سوتے تھے۔اورآخر رات میں اٹھ کر تہجد پڑھتے تھے(بخاری کتاب التہجد باب من نام اول اللیل و احیا اخرہ)۔نماز محبوب کی زیارت ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بتایاہے کہ عبادت کاموقعہ دینا ایک احسان الٰہی ہے۔مگر افسوس ان لوگو ں پر جو نماز کوچٹّی سمجھتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز اپنے رب کی زیارت