تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 36
وَ مَا ذَرَاَ لَكُمْ فِي الْاَرْضِ مُخْتَلِفًا اَلْوَانُهٗ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اورجوکچھ اس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کیا ہے جس کی مختلف قسمیں ہیں (وہ بھی تمہارے کام آرہا ہے )اس لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَّذَّكَّرُوْنَ۰۰۱۴ میں (بھی)ان لوگوں کے لئے جونصیحت حاصل کرتے ہیں یقیناًایک نشان (پایاجاتا)ہے۔حلّ لُغَات۔ذَرَاَ: ذَرَأَ اللّٰہُ الْخَلْقَ کے معنے ہیں خَلَقَہُمْ۔اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا۔ذَرَأَ الشَیْءَ۔کَثَّرَہٗ۔کسی چیز کو زیادہ کیا۔ذَرَأَالْاَرْضَ:بَذَرَھَا،زمین میں بیج بویا۔(اقرب) اَلْوَانٌ:اَلْوَانٌ لَوْنٌ کی جمع ہے۔اوراَللَّوْنُ کے معنے ہیں مَافَصَلَ بَیْنَ الشَّیْءِ وَبَیْنَ غَیرِہِ۔یعنی لون اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے ایک چیز دوسری چیز سے ممتاز نظرآتی ہے۔اَللَّوْنُ:النَّوْعُ۔قسم۔اَللَّوْنُ: صِفَۃُ الْجَسَدِ وَھَیْئَتُہُ مِنَ الْبَیَاضِ وَالسَّوَادِ وَالْحُمْرَۃِ۔کسی جسم کاسیاہ ،سفید سرخ رنگ۔(اقرب) تفسیر۔ذَرَاَ کے لفظ سے سب اشیاء کی پیدائش کا ذکر ذَرَاَ کے معنے پیداکرنے کے ہیں۔پس اس جگہ ان سب اشیاء کا ذکر ہے جودنیا میں موجود ہیں۔خواہ حیوانات کی قسم کی ہوں ،خواہ نباتات کی قسم کی خواہ جمادات کی قسم کی۔رنگوں کے اختلاف اور تاثیر کا ذکر ان کی علمی دریافت سے پہلے اس آیت سے ایک نئے مضمون کو شروع کیا اوررنگوں کے اختلاف کو پیش کیا کہ وہ بھی تاثیرات رکھتے ہیں اورانسان ان سے بھی فائدہ اٹھاتا ہے۔قرآن کریم کیساعظیم الشان کلام ہے جوان حکیمانہ امورکو اس زمانہ میں بیان فرماتا ہے جبکہ دنیا ان سے کلی طور پر ناواقف تھی۔رنگوں کی تاثیرات کی دریافت علمی طورپر موجودہ زمانہ میں ہوئی ہے۔حتی کہ بنفشی شعاعوں اورماوراء بنفشی شعاعوں اور کئی قسم کی دوسری شعاعوں کی دریافت سے بیماریوں کے علاج میں غیر معمولی مد دملی ہے۔اورطب میں بھی ایک نیا باب علاج باللَّون کا کھل گیا ہے۔یعنی مختلف رنگوں کی بوتلوں میں پانی رکھ کر اورسورج کی شعاعوں کے مقابل پر رکھ کر خالی پانی کو دوا کی صورت میں بد ل دیاجاتا ہے۔گویہ طریق علاج اب تک علمی حد تک نہیں پہنچا۔مگر اس کے بعض فوائد ناقابل انکارہیں۔ایک ہی قسم کی اشیاء کا رنگوں کے اختلاف کی وجہ سے مختلف تاثیرات کا ظاہر کرنا ان کے علاوہ یہ