تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 394
ہاتھ سے کام کرنے کاخیال پیداہو ا۔اسی طرح آئندہ نسلوں کوہوا۔بعض ڈاکٹر دائیں ہاتھ کے استعمال کی یہ وجہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ د ل بائیں طرف ہے بائیں طرف کے حصہ دماغ کی طرف خون نسبتًا زیادہ جاتاہے۔اوروہ زیادہ طاقتور ہوتاہے۔اور چونکہ دائیں طرف کادماغ بائیں طرف کے اعصاب سے کام لیتا ہے۔اوربائیں طرف کادما غ دائیں طرف کے اعصاب سے۔پس بائیں طرف کے دما غ کی زیادتی کی وجہ سے دائیں طرف کے اعصاب مضبوط ہوتے ہیں اوراس وجہ سے انسان دائیں طر ف کے اعضاء سے کام لینے کی طرف طبعاً راغب ہوتاہے۔یہ توجیہ درست ہویاغلط ہمیں اس سے تعلق نہیں۔ہمیں توبس اتنی بات سے تعلق ہے کہ دائیں کوبائیں پر سب دنیا ترجیح دیتی آئی ہے۔اوردائیں بازو سے کام لینا ایک طبعی تقاضاہے۔دائیں بائیں کے فرق کے متعلق ایک اورعجیب بات بھی قابل غور ہے۔علم اعداد وشمار سے معلوم ہواہے کہ صحیح الدماغ لوگوں میں سے صرف چار سے آٹھ فیصدی تک بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے لوگ ہیں۔باقی سب دائیں ہاتھ سے کام لیتے ہیں۔لیکن مجنونوں میں یہ نسبت بہت بڑ ھ جاتی ہے۔اس سے بھی اس امر کاثبوت ملتاہے کہ قانون قدرت نے دائیں کوبائیں پر فضیلت دی ہے۔(انسائیکلو پیڈیا برٹینکا جلد گیارہ زیرلفظ ہینڈڈنس) اوپرکے حوالہ جات سے یہ امر ثابت ہوجاتا ہے کہ دایاں ہاتھ کا م کرنے کے لئے زیادہ موزوں ہے۔اوراکثر افراد عالم اسی ہاتھ سے کام کرتے ہیں۔پس دایاں بازو قو ت عملیہ کا نشان قراردیاجاسکتاہے۔اورقرآن کریم میں نیک لوگوں کے دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دینے کاجہاں جہاں ذکر ہے درحقیقت اس سے اسی طر ف اشارہ کرنامقصود ہے کہ وہ لوگ کام کرنے والے ،محنت کرنے والے اورقربانی کرنے والے تھے۔اوربائیںہاتھ میں اعمال نامہ دینے کا جہاں جہاں ذکر ہے۔اس سے اس طرف اشارہ کیاگیاہے کہ وہ لوگ نکمے قربانی سے بچنے والے اورسست تھے۔کیونکہ بایاں ہاتھ بہت کم کا م کرتاہے۔ایک اور بات بھی یاد رکھنی چاہیے۔کہ دایاں ہاتھ اسلامی شریعت نے پاکیزہ کاموں کے لئے ،اوربایاں ہاتھ گندگی کی صفائی وغیرہ کے لئے تجویزکیا ہے۔پس دائیں ہاتھ میں اعمال نامہ دینے سے یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ تم لوگ پاکیزہ کام کرتے تھے۔اوربائیں میں اعمال نامہ دینے سے مراد ہے کہ تم ناپاک کام کرتے تھے۔دائیں کے لفظ سے ایک اورامر کی طرف بھی اشارہ ہوتاہے۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ کے متعلق لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ آتا ہے (الحاقۃ :۴۶)جس کے معنے مفسرین نے کئے ہیں۔بِالْقُدْرَۃِ وَالطَّاقَۃِ۔یعنی ہم ا س کو