تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 389
تمہیں بھو ل جاتے ہیں۔صرف اس وقت خدا تعالیٰ ہی یا د آتاہے مگر جب تم کو نجا ت دےکر خشکی پر پہنچاتاہے۔توپھر اعراض کرنے لگ جاتے ہو۔یعنی انسان بڑاہی ناشکراہے۔ہمیشہ اپنی حالت کو بھول جاتا ہے۔جب مصیبت میں ہوتاہے توکہتاہے کہ اگر اس سے نجات پاجائوں گا توضرور نیکی کروں گا۔مگر جب وہ تکلیف کی حالت گذر جاتی ہے تو پھر سب قول و قرار بھو ل جاتاہے۔اس آیت میں مسلمانوں کو ہوشیار کیا ہے کہ کفار کے طریق کو اختیار نہ کرنا اورترقی کے زمانہ میں بھی خدا تعالیٰ کو یاد رکھنا تامصیبت کے وقت و ہ تمہاری مدد کاخیا ل رکھے۔اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ توکیا تم اس بات سے بے خوف (اورمحفو ظ)ہو کہ وہ تمہیں خشکی کے کنارہ پر( ہی زمین میں )دھنسادے یاتم پر عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًاۙ۰۰۶۹ سنگریزے نازل کرے۔(اور)پھر تم اپناکوئی کارساز (اورچارہ گر )نہ پائو۔حل لغات۔یَخسف :یَخْسِفُ خَسَفَ سے مضارع ہے اوراس کے لئے دیکھو نحل ۴۶۔حاصبًا حَاصِبًاحَصَبَ سے اسم فاعل ہے اورحَصَبَہٗ (یَحْصِبُ) کے معنے ہیں رَمَاہُ بِالْحَصْبَاءِ۔اس کوکنکر مارا۔حَاصِبٌ کے معنے ہیں رِیْـحٌ شَدِیْدَۃٌ تَحْمِلُ التُّرَابَ وَالْحَصْبَاءَ۔سخت ہواجو مٹی اورکنکر اٹھاکرپھینکے وَقِیْلَ ھُوَ مَاتَنَاثَرَ مِنْ دُقَاقِ الثَّلْجِ وَالْبَرَدِ۔بعض کہتے ہیں۔وہ اولے جو ہواکے ساتھ گرتے ہیں۔السَّحَابُ لِاَنَّہُ یَرْمِیْ بِالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ۔باد ل کیونکہ وہ بھی اولے برساتے ہیں (اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے خشکی میں دلیر ہوتے ہومگر کیاخدا تعالیٰ تم پر خشکی میں عذاب نہیں بھیج سکتا۔کیا وہ تم کو زمین میں غائب نہیں کرسکتا۔یاپتھروں کامینہ تم پر نہیں برساسکتا۔پھر سمندر اورخشکی میں فر ق کرنے سے تم کیافائد ہ حاصل کرسکتے ہو۔جنگ بدر کی پیشگوئی میرے نزدیک اس آیت میں جنگ بدر کی پیشگوئی ہے۔جنگ بدر کے موقعہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹھی میں کنکر پکڑ کرپھینکے تھے۔اسی وقت ایک تیز ہواچل پڑی جس کے ساتھ کنکر اڑ اڑ کر کفار کی آنکھو ں میں پڑنے لگے۔نیز چونکہ کفار کے سامنے کی طرف سے ہواآتی تھی کفارکے تیروں کازوراس ہواکی وجہ سے کم ہوجاتاتھا۔اورمسلمانوں کے تیروں کازور بوجہ باد موافق کے بڑھ جاتاتھا (دلائل النبوۃ للبہیقی