تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 388

یُجْرِیْہِ وَیَسُوْقُہُ اورآیت یُزْجِی الْفُلْکَ الخ میں یُزْجِیْ کے معنے چلانے کے ہیں (اقرب)پس رَبُّکُمُ الَّذِی یُزْجِیْ لَکُمْ الْفُلْکَ فِی الْبَحْرِ کے معنے ہوئے۔تمہارارب وہ ہے جو تمہارے لئے کشتیوں کو سمندر میں چلا تا ہے۔تفسیر۔اس میں بتایا ہے کہ حقیقی انعامات تو اللہ تعالیٰ نے پیداکئے ہیں۔مگرلوگ ان کی قدر نہیں کرتے۔خشکی پر تو سامان ہیں ہی سمندر میں کشتیاں بناکر اس نے باہمی تعلقات کو وسیع کردیا ہے۔ورنہ جزائرمیں بسنے والے لوگ براعظموں کے لوگوں سے اوربراعظموں کے لو گ جزائر والوں سے غافل رہتے۔اسلام عالمگیر مذہب ہے میرے نزدیک یہ مثال اس جگہ اس امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے دی ہے کہ اسلام عالمگیر مذہب ہے اورسب دنیامیں پھیلے گا اوریہ امر چونکہ جہازوں کے ساتھ وابستہ ہے جن کے بغیر سمندروں کاسفر طے نہیں کیا جاسکتا۔سمندر کی مثال دے کر مسلمانوں کو جہاز رانی کی طرف توجہ دلائی اس لئے اس جگہ خصوصاً سمندر اورجہازوں کی نعمت کا ذکر فرمایا کہ یہ نعمت مسلمانوں کوخاص طور پر ملنے والی ہے۔چنانچہ مسلمان گوآجکل جہاز رانی میں کمزورہیں۔لیکن ایک زمانہ ایساتھا کہ سب دنیا میں مسلمانوں کے جہاز چلتے تھے ،بحری نقشے اورراستے سب مسلمانوں کے تیار کئے ہوئے ہیں۔ہندوستا ن کی طرف یورپ کے لوگوں کابحری سفر بھی ایک عرب مسلما ن کا ممنون احسان ہے۔جو بھٹکتے ہوئے پُرتگیزی جہازوں کو افریقہ کے اوپر سے لاکر ہندوستان تک پہنچا گیا۔(Arabian Students vol۔1 p:86 to 93) وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اورجب سمندر میں (طغیانی پیدا ہونے کی وجہ سے )تمہیں تکلیف پہنچے۔توا س کے سوا(دوسرے وجود )جن کوتم اِيَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ پکارتے ہو(تمہارے ذہنوں سے )غائب ہوجاتے ہیں۔پھر جب وہ تمہیں بچاکر خشکی پرلاتاہے۔توتم (اس کی كَفُوْرًا۰۰۶۸ طرف سے )اعراض کرلیتے ہو۔اورانسان بہت ہی ناشکر گذار ہے۔تفسیر۔وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ۔الآیہ۔اوراگر سمندر میں کسی قسم کی تکلیف ہوتی ہے توسارے معبودان باطلہ