تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 387

گروہوںکو ان تینوں طریق سے پھنسانے کی مثالیں اس قدر کثر ت اورتواترسے ملتی ہیں کہ اس کے متعلق مزید کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں۔اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ جو میرے بندے ہیں ان پر تیراہرگز کچھ تسلط نہیں (ہوسکتا)اور(اے میرے بندے )تیرارب کارساز ہوکر وَكِيْلًا۰۰۶۶ (تیرے لئے )کافی ہے۔تفسیر۔اس آیت میں بتایاگیا ہے جو اللہ تعالیٰ کابندہ بن جائے۔اس پر شیطان کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔کیونکہ شیطان کو صرف یوم قیامت تک کی مہلت حاصل ہوتی ہے۔یعنی جب تک انسان روحانیت میں کمزور ہو شیطان کے حملہ سے دیتا ہے۔جب اس میں روحانی طاقت پیداہوجائے اس میں دلیری آجاتی ہے اوروہ دھمکیوں ، تکلیفوں اورلالچوں سے نہیں ڈرتا۔شیطانی حملوںسے بچنے کا گر دوسرے اس آیت میں شیطانی حملوں سے بچنے کاگر بھی بتایاگیاہے اوروہ یہ کہ انسان اللہ تعالیٰ کاعبد بن جائے۔یعنی اپنے آپ کو اس کے سپرد کردے اوراپنی طاقتوں کی بجائے اس پر توکل کرے۔جس کا خدا تعالیٰ وکیل ہوجائے شیطان اس کاکچھ نہیں بگاڑ سکتا۔رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ (اوراے میرے بندو)تمہارارب وہ (کریم ذات)ہے۔جوتمہارے لئے کشتیوں کوسمندر میں چلاتاہے تاکہ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا۰۰۶۷ تم اس کے فضل کو ڈھونڈو۔وہ یقیناً تم پر بار با ررحم کرنے والا ہے۔حل لغات۔یُزْجِیْ۔یُزْجِیْ اَ زْجٰی سے مضارع واحد مذکرغائب کاصیغہ ہے اوراَ زْجَاہ (اِزْجَاءً )کے معنی ہیں زَجَّاہُ یعنی ا س کوچلایا اورآہستگی سے آگے کیا۔وَمِنْہُ فِی الْقُرْآنِ رَبُّکُمُ الَّذِی یُزْجِیْ لَکُمْ الْفُلْکَ۔اَیْ