تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 384 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 384

بعض لوگ کہتے ہیں کہ شیطان نے ایک دعویٰ کیا اوراسے پوراکردکھایا۔اس نے کہاتھا لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗۤ چنانچہ دنیا میں بد ی بہت ہے اورنیکی کم۔اس کے مقابل خدا تعالیٰ نے ایک دعویٰ کیامگراس کو پورانہ کرسکا۔اس نے فرمایا تھا۔مَاخَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّالِیَعْبُدُوْنِ۔مگر اکثر انسان خدا کے بندے نہیں شیطان کے بندے ہیں۔یہ اعتراض قلت تدبّرکانتیجہ ہے۔کیونکہ حقیقتاً بدی نیکی کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے۔بڑے سے بڑے جھوٹ بولنے والے کوہی لے لو۔اس کی ساری عمر کے کلام کوجمع کرو توضرو را س کے سچ زیادہ ہوں گے اورجھوٹ بہت تھوڑے۔یہی حال دوسری بدیوں کاہے۔دنیا میں اکثر انسان نیک نیت ہیں اوراپنی طرف سے نیکی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔گوبعض حالات میں جذبات سے دب بھی جاتے ہیں۔پس یہ غلط ہے کہ شیطان کامیاب ہوگیا۔میں تو کہتا ہوں کہ تھوڑی سی بدی کازیادہ مشہورہوجانا یہ بھی شیطان کی ناکامی کاثبوت ہے۔کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی فطرت نیک ہے اوروہ تھوڑے سے گناہ کی بھی برداشت نہیں کرسکتی۔قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ (اللہ تعالیٰ نے )فرمایا چل(دورہو )کیونکہ (تیری اور)ان میں سے جوبھی تیری پیروی کر یں توجہنم یقیناًتمہاری جَزَآءً مَّوْفُوْرًا۰۰۶۴ (اوران کی )سب کی جزاہے (یہ)پوراپورابدلہ (ہے)۔حلّ لُغَات۔موفورًا۔مَوْفُوْرًاوَفَرَ(یَفِرُ)سے اسم مفعول ہے اوراس کے معنے ہیں اَلشَّیْءُ التَّامُ۔مکمل چیز جَزَاءٌ مَوْفُوْرٌ۔لَمْ یُنْقَصْ مِنْہُ شَیْءٌ۔پوراپورابدلہ (اقرب) تفسیر۔شیْءٌ موفورٌ پوری چیز اوروہ چیز جس میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔یعنی ہرایک کے لئے اس مقام میں جزاء تام ہوگی۔یہ مراد نہیں کہ سزاکم نہ ہوگی۔بلکہ مراد یہ ہے کہ سزاایسی چیز ہے کہ انسا ن اس کی نسبت یہ نہیں کہہ سکتاکہ مجھے اورچاہیے۔پس ہرشخص جہنم میں اپنی سزامیں مشغول ہوگا اورطرف توجہ نہ ہوسکے گی ورنہ جیساکہ قرآن کریم سے ثابت ہے اللہ تعالیٰ سزاکے معاملہ میں ہمیشہ عفواوررحمت کو مدنظر رکھتاہے۔اس آیت سے معلو م ہوتاہے کہ سزاقلبی ہوگی اورہرایک اپنے اپنے قلب کی کیفیت کے مطابق سزاپائے گا۔