تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 377 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 377

اندازہ اورحد سے بڑھ گیا۔طَغٰی فُلانٌ اَسْرَفَ فِی الْمَعَاصِیْ وَالظُّلْمِ گناہوںاورظلم میں بڑھ جانا(اقرب) تفسیر۔اَحَاطَ بِہٖ۔کے معنے کسی چیز کااحاطہ کرلینے کے بھی ہوتے ہیں یعنی اس کے سب اجزاء کو قبضہ میں کرلیاجائے اوراس کے معنے عذاب کامل کے بھی ہوتے ہیں۔کیونکہ کسی قوم کااحاطہ کرلیاجاوے تووہ بھاگ کر بچ نہیں سکتی۔اس جگہ اَحَاطَ کے معنے سب کو گھیر لینے یاایک حلقہ میں لے آنے کے ہیں۔فرماتا ہے کہ یاد کروجب ہم نے تم کوکہاتھا کہ ہم سب دنیا کااحاطہ کرنے والے ہیں یایہ کہ سب کوایک حلقہ میں لانے والے ہیں۔آنحضرت ؐ کے سب انبیاء کو نماز پڑھانے کی تعبیر اس سے اشار ہ اسی سورۃ کی پہلی آیت کی طرف ہے جس میں اسراء والاکشف بیان کیا گیا ہے۔اس کشف میں آپ کودکھایاگیاتھا کہ آپؐ نے سب نبیوں کو نماز پڑھائی ہے جس کی تعبیر یہ تھی کہ سب نبیوں کی امتیں آپ کے دین میں داخل ہوںگی۔آخری زمانہ کے مصائب کے بعد اسلام کی عالمگیر اشاعت سواَحَاطَ بِالنَّاسِ کہہ کر اس کشف کے مضمون کو بیان کیاگیاہے اوراس کے ذکر کاموقعہ یہ ہے کہ پہلی آیتوں میں بتایا گیا تھا کہ سب دنیا پر عذاب آنے والا ہے اب اس کی وجہ بیان فرماتا ہے کہ اس عذاب کی وجہ یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اس کشف کو پوراکرے جو اسراء کی صورت میں تجھے دکھایا گیا تھا اور اس پیشگوئی کو پورا کرے کہ سب انبیاء کی جماعتیں اسلام میں داخل ہوجائیں گی۔اس عالمگیر عذاب کے بعد تبلیغ اسلام کاراستہ کھل جائے گااورسب اقوام کو مذہب کی طرف توجہ ہوجائے گی اورمادیت سے لوگ مایوس ہوجائیںگے تب اللہ تعالیٰ اپنے فضل اوراحسان سے ان کے دل سچائی کےقبول کرنے کے لئے کھول دےگا۔اوروہ محمد رسول اللہ صلعم کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں گے اس موعود عذاب کے آثا ر اس وقت دنیا میں ظاہرہورہے ہیں اوراس کے بعد انشاء اللہ اسلام کے پھیلنے کے سامان بہت کثرت سے پیداہوجائیں گے۔آیت کے اگلے حصہ میں اس مضمون کو واضح کردیاگیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ یہ نظارہ جو ہم نے دکھایاتھا یہ لوگوں کے لئے امتحا ن کاذریعہ تھا یعنی ہم پیشگوئی توصاف لفظوں میں بھی کرسکتے تھے مگر ہم نے اس نظارہ کو تمثیلی زبان میں اس لئے بیان کیا تالوگوں کاامتحان بھی لے لیاجائے۔جوابوبکری صفا ت کے تھے انہوںنے اس نظارہ کا ذکر سنااوراس پر ایما ن لے آئے اور جن کے دل تقویٰ سے خالی تھے انہوں نے اس پر اعتراض کرنا شروع کردیا۔اللہ تعالیٰ کے نشان ایک پہلو امتحان کا بھی رکھتے ہیں اس آیت سے ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نشان ایک پہلوامتحان کابھی رکھتے ہیں۔مگر اس کے باوجود آج مسلمان بھی ا س خیال میں مبتلا ہیں کہ پیشگوئیاں جب تک ایسے واضح الفاظ میں نہ ہوںکہ احمق سے احمق بھی ان کاانکار نہ کرے انہیںسچانہیں کہا جاسکتا۔