تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 374 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 374

مَسْطُوْرًا۰۰۵۹ (پہلے سے )لکھی ہوئی ہے۔حل لغات۔مَسْطُوْرًا۔مَسْطُوْرًاسَطَرَ سے اسم مفعول ہے۔اورسَطَرَ الکَاتِبُ کے معنے ہیں۔کَتَبَ۔کاتب نے لکھا (اقرب) پس مَسْطُوْرٌکے معنے ہوںگے لکھی ہوئی۔تفسیر۔جب شرک ساری دنیا میں پھیلے گا تو عذاب بھی ساری دنیا پر آئے گا پہلے فرمایا تھا کہ اپنے معبودوںکو پکارو۔و ہ تمہاری تکلیف کونہ تودورکرسکتے ہیں اورنہ اسے بٹاسکتے ہیں۔اب ا س کی ایک مثال بیان فرماتا ہے اوروہ یہ کہ ایک زمانہ ایساآنے والا ہے کہ دنیا کے پردہ پر مشرک قوموں کاغلبہ ہوجائے گا اورتوحید قریباً مٹ جائے گی۔اس وقت جب شرک اپنی انتہاکوپہنچ جائے گا۔ہم ساری دنیا پر عذاب لائیں گے کیونکہ شرک تمام دنیا پرغالب ہوگا۔اس کومٹانے کے لئے ساری دنیا کو عذاب میں مبتلاکرنا ہوگا۔اس وقت ہمارے اس دعوے کی صداقت نہایت واضح ہوجائے گی کیونکہ اس پیشگوئی کے ماتحت ساری دنیا پر عذاب آئے گا۔لوگ جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے مگرکچھ نہ بنے گا۔اس کی تفصیل آگے سورۃ کہف میں بیان ہوگی۔اس آیت میں مسلمانوں کو بھی اس دوسرے عذاب سے ہوشیارکیا گیاہے جس سے بوجہ محمدی سلسلہ اور موسوی سلسلہ میں مشابہت تامہ پائے جانے کے انہیں خطرہ ہوسکتا تھا۔وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰيٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا اورپہلے لوگوں کی تکذیب کے سواہمیں نشانات کے بھیجنے سے کسی امر نے نہیں روکا۔(پس ہم نشان بھیجنے سے کس الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ طرح رک سکتے تھے ) اور(جب ) ہم نے ثمود کو (صالح کی )اونٹنی ایک روشن نشان کے طورپر دی۔توانہوں نے اس وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا۰۰۶۰ پرظلم (ہی)کیا۔اورہم نشانوں کو (بدانجام سے )ڈرانے کے لئے ہی بھیجا کرتے ہیں۔حلّ لُغَات۔ظلموابھا ظَلَمُوْابِھَا ظَلَمَ سے جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اوراَلظُّلْمُ کے معنے ہیں۔