تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 373

رب کاقرب تلا ش کرتے ہیں۔دوسرے کسی وجود کو معبود بناکر اس کاقرب تلاش نہیں کرتے۔مقربین کے اشتیاق قرب الٰہی میں دوسروں کے لئے سبق اَیُّھُمْ اَقْرَبُ۔علامہ زمخشری کاقو ل ہے اور اکثر مفسرین نے اس کی تائید کی ہے کہ اَیُّ موصولہ ہے اور اَیُّھُمْ اَقْرَبُ کے معنے مَنْ ھُمْ اَقْرَبُ کے ہیں اوریہ جملہ یَبْتَغُوْنَ کی ضمیر فاعل کا بدل ہے۔یعنی یہ قرب حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہیں۔اس میں اشارہ ہے کہ جب زیادہ قرب والے لوگ بھی اللہ تعالیٰ کے مزید قرب کی تلاش میں لگے ہوئے ہیں توجن کو قرب حاصل نہیں ان کو توبہت ہی زیادہ کوشش کرنی چاہیے۔خلاصہ یہ کہ خدا کاقرب ایسی چیز نہیں ہے۔جودوسروں کی پرستش کے ذریعہ سے حاصل ہوسکے۔اورپھر جب بڑے سے بڑانبی بھی خداکے قرب کی تلاش میں ہے اورا بھی وہ قرب الٰہی میں ترقی کی جستجوکررہاہے توو ہ تمہارے لئے زعیم اورٹھیکیدار کیسے بن سکتاہے۔فرمایا جو اقرب ترین نبی ہے وہ بھی ابھی اَورقرب حاصل کرناچاہتاہے دوسرے توالگ رہے۔جب نبیوں تک کی یہ بات ہے توتمہاری توہستی ہی کیا ہے۔ایک اَورمعنے بھی آیت کے ہوسکتے ہیں اوروہ یہ کہ اُولٰٓىِٕكَ کااشارہ معبودین کی طرف سمجھاجائے اور یَدْعُوْن کافاعل مشرکوں کو۔اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگاکہ وہ معبود جن کو مشرک بلاتے ہیں وہ تواپنے رب کے قرب کی تلاش کررہے ہیں اوراس کاخیال رکھتے ہیں کہ کون خدا تعالیٰ کازیادہ مقرب ہوتاہے۔ان معنوں میں اَیُّ استفہامیہ سمجھا جائے گااوراس کاعامل فعل محذوف یامصدر محذوف سمجھا جائے گا۔جیسے یَحْرُصُوْنَ اَیُّھُمْ اَقْرَبُ یایہ کہ بغیّتہم اَیُّھُمْ اَقْرَبُ۔وَ اِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ اور(روئے زمین پر)کوئی ایسی بستی نہیں (ہوگی )جسے ہم قیامت کے دن سے پہلے ہلاک نہ کردیں مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ یااسے بہت سخت عذاب نہ دیں۔یہ بات تقدیر (الٰہی)میں