تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 372
کے وقت شرک ہی پیداہوگیاتھا۔مسلمانوں نے فتوحات کے زمانہ میں ایرانی اورترکی عورتو ںسے شادیاں کیں جو کہ خوبصورت توتھیں مگرساتھ ہی متعصب مشرکہ بھی تھیں۔آخراولاد میں اس کااثر ظاہر ہوگیا۔ابن مقنع۔عبداللہ بن صباح اسی زمانہ میں ہوئے تھے۔اُولٰٓىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةَ و ہ لو گ جنہیں وہ پکارتے ہیں یعنی ان میں سے جو (خدا تعالیٰ کے)زیادہ قریب ہیں وہ (بھی)اپنے رب کا اَيُّهُمْ اَقْرَبُ وَ يَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ يَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ (مزید)قرب چاہتے ہیں اوراس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اوراس کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں تیرے عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا۰۰۵۸ رب کاعذاب یقیناایساہے جس سے خوف کیا جاتا ہے۔حلّ لُغَات۔الوسیلۃ:اَلْوَسِیْلَۃ وَسَلَ (یَسِلُ)کامصدر ہے اور وَسَلَ اِلَی اللہِ بِالْعَمَلِ کے معنے ہیں رَغِبَ وتقَرَّبَ متوجہ ہوااورقرب چاہا۔وَسَّلَ وَتَوَسَّلَ اِلَی اللہ بِوَسِیْلۃٍ کے معنے ہیں عَمِلَ عَمَلًا تَقَرَّبَ بِہٖ اِلَیْہِ تَعَالٰی نیک عمل کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کاقرب چاہا۔تَوَسَّلَ اِلَی فُلَانٍ بِکَذَا کے معنے ہیں تَقَرَّبَ اِلَیْہِ بِحُرْمَۃٍ آصِرَۃٍ تَعْطِفُہُ۔کسی شخص تک ایسے مضبوط ذریعہ سے رسائی کی کوشش کی جس سے وہ مہربان ہوجائے۔اَلْوَسِیْلَۃُ مَایُتَقَرَّبُ بِہٖ اِلَی الْغَیْرِِ۔ذریعہ قرب۔اس کی جمع وَسَائِلُ آتی ہے۔(اقرب) مَحْذُوْرًا:مَحْذُوْرًا حَذَرسے اسم مفعول ہے اس کے معنے ہیں مَایُحْتَرَ زُمِنْہُ جس سے ڈرااوربچا جائے۔(اقرب) تفسیر۔اُولٰٓىِٕكَ کااشارہ اَلنَّبِیّٖنَ کی طرف ہے۔یعنی و ہ(انبیاء)ایسے لوگ تھے جوبنی نوع انسان کو خدا کی طرف پکارتے تھے یایہ کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضورعجزوانکسار سے دعاکیاکرتے تھے۔يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِيْلَةََ خبر ہے اُولٰٓىِٕكَ کی۔اورمطلب یہ ہے کہ انبیاء جن کی صفت ہے کہ و ہ تبلیغ میں لگے رہتے ہیں یایہ کہ دعائوں میں لگے رہتے ہیں وہ بھی باوجود اس قدر نیک اورعاشق الٰہی ہونے کے صرف اپنے