تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 370
ہی عرصہ کے بعد بگڑے جتنے عرصہ کے بعد بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کے بعد بگڑے تھے۔اورگو اس وقت ان میں دائود کی طرح نبی نہیں آیا لیکن ایسے نیک بادشاہ ضرور پیداہوئے جنہوں نے حضرت دائودؑ اورسلیمانؑ کی طرح نیکی کانمونہ دکھایا۔مگراس وقت دولت کے نشہ میں سرشار تھے اوراسلام کی خدمت سے غافل ہورہے تھے۔چنانچہ قریباً اتنا ہی زمانہ گذرنےپرجتناحضرت موسیٰ اوریروشلم کی تباہی پر گذراتھا۔بغداد ہلاکو خان کے ہاتھ سے تباہ ہوگیا۔اوراسلامی شوکت مٹ گئی۔جس کے بعد اسے کبھی پوری شان کے ساتھ قائم ہونے کاموقعہ نہیں ملا۔قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ تو(انہیں )کہہ(کہ)اس کے سواجن لوگوں کے متعلق تمہارادعویٰ ہے (کہ و ہ الوہیت رکھتے ہیں )انہیں (اپنی مدد فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ کے لئے بھلا) پکارو(تو)۔پس (تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ)نہ وہ (تمہاری کسی )تکلیف کو تم سے دور کرنے کا وَ لَا تَحْوِيْلًا۰۰۵۷ اختیاررکھتے ہیں اورنہ (تمہاری حالت میں )کوئی تبدیلی پیداکرنے کا۔حلّ لُغَات۔زعمتم۔زَعَمْتُمْ زَعَمَ سے جمع مخاطب کاصیغہ ہے۔اورزَعَمَ الرَّجُلُ (یَزْعُمُ) کے معنے ہیں قَالَ قَوْلًا حَقًّااس نے سچی بات کہی وَکَذَا بَاطِلًا وَکِذْبًا(ضِدٌّ) چونکہ یہ لفظ اضداد میں سے ہے اس لئے اس کے معنے جھوٹی بات کرنے کے بھی ہیں۔وَاَکْثَرُ مَا یُقَالُ فِی مَایُشَکُّ فِیْہِ اَوْ یُعْتَقَدُ کِذْبُہٗ ا ورا س کااکثر استعمال ان باتوں میں ہوتاہے جن میں شک و شبہ ہو یا اس کے جھو ٹ ہو نے پر یقین ہو(اقرب) فلا یَمْلکُونَ۔فَلَا یَمْلِکُوْنَ مَلَک سے مضارع جمع کاصیغہ ہے اورمَلَکَ کے لئے دیکھو رعدآیت نمبر ۱۷۔مَلَکَ کے معنے ہیں اِحْتَوَاہُ قَادِرًا کسی چیز پر قادرانہ طور پر قبضہ کیا۔مَلَکَ عَلی الْقَوْمِ: اِسْتَوْلٰی عَلَیْہِمْ کسی قوم پر غالب ہوا۔عَلٰی فُلَانٍ اَمْرَہُ۔کسی کے کام کا متولی ہوا۔اَلْخِشْفُ أُمَّہٗ :قَوِی وَقَدَرَ اَنْ یَتْبَعَہَا۔ہرن کا بچہ توانا و مضبوط ہوکر اس قابل ہو گیا کہ وہ اپنی ماں کے پیچھے چل سکے۔(اقرب) پس لَا يَمْلِكُوْنَ کے معنے ہوں گے وہ قادر نہیں ہوسکتے۔وہ طاقت نہیں رکھ سکتے۔