تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 364 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 364

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًاۙ۰۰۵۱اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ تو(انہیں )کہہ(کہ )تم (خواہ)پتھر بن جائو یالوہا۔یاکوئی اورایسی مخلوق جوتمہارے دلوں میں عظمت رکھتی ہو فِيْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَيَقُوْلُوْنَ۠ مَنْ يُّعِيْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِيْ (تب بھی تم کو دوبار ہ زندہ کیا جائے گا)اس پر وہ ضرور کہیں گے (کہ )کو ن ہمیں دوبارہ (زندہ کرکے وجود میں ) فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَيُنْغِضُوْنَ۠ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ لائے گاتو(انہیں )کہہ(کہ)وہی جس نے تمہیں پہلی با رپیدا کیاتھا۔اس پر وہ لازماً تعجب سے تمہاری طرف يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى ( دیکھتے ہوئے )اپنے سرہلائیں گے اورکہیں گے (کہ)وہ (از سرنوزندہ کیاجانا)کب ہوگا (جب وہ ایساکہیں اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا۰۰۵۲ تو)تو(ان سے )کہہ(کہ)بالکل ممکن ہے کہ وہ (وقت اب)قریب (آچکا)ہو۔حلّ لُغَات۔فَسَیُنْغِضُوْنَ:فَسَیُنْغِضُوْنَ اَنْغَضَ سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ ہے اور اَنْغَضَ فُلَانٌ رَاْسَہٗ کے معنے ہیں حَرَّکَہٗ کَالْمُتَعَجِّبِ مِنَ الشَّیْءِ اپنے سرکوحرکت دی جیسے کو ئی متعجب سر کو حرکت دیتاہے (اقرب)پس فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْکَ رُءُ وْ سَہُمْ کے معنے ہوں گے کہ و ہ تمہاری طرف اپنے سرکو ہلائیں گے۔تفسیر۔پہلی آیت میں جواعتراض پیش کیاگیاتھا اس کے جوا ب میں فرماتا ہے کہ تمہارے اندرکتنا ہی تغیر آجائے۔پتھر ہوجائو یا لوہا یااس سے بھی بڑی کوئی چیز توبھی تم خدا کی سزاسے بچ نہیں سکتے۔یااس کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنے دلوں کوکتناہی سخت بنالو۔پھر بھی ہمارے رسول کی ترقی ضرور ہوگی۔تم میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں حشر برپا کردے گا۔ممکن ہے کہ انسانی جسم زمین میں ایک لمبا عرصہ تک مدفون ہو کر پتھر بن جائے میں اس آیت