تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 362 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 362

جودھوکہ خورد ہ ہے یاسچائی سے پھیراگیاہے یا جس کی عقل ماری گئی ہے یالاعلاج بیماری میں مبتلا ہے۔قوم کی حالت کے غم میں انبیاء کی صحت عموماًاچھی نہیں رہتی۔اس لئے و ہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ کمزور اوربیمار ہے یونہی چند یوم کاشورہے۔تھوڑے ہی دن میں مرجائے گا۔تفسیر۔اس آیت میں بِہٖ کی بَاء لام کے معنوں میں ہے اورمطلب یہ ہے کہ ہم اس امر کو خوب جانتے ہیں جس کی خاطریہ تیری باتیں سنتے ہیں یعنی یہ صرف انکارو الزام کی خاطرسنتے ہیں۔ان الفاظ میں وَقر کی تشریح کی گئی ہے۔بہٖ میں با مصاحبت کی بھی ہوسکتی ہے۔کہ جس چیز کے ساتھ و ہ سنتے ہیں اس کوہم جانتے ہیں یعنی سنتے وقت جوحالت ان کے دل کی ہوتی ہے ہم اس سے واقف ہیں۔وہ قلبی حالت کیا ہے ؟ وہ استہزاء اور مخالفت کے خیالات ہیں جو سنتے وقت ان کے دلوں میں پیداہورہے ہوتے ہیں۔آیت میں چند اَورپردوں کا ذکر کیا گیا ہے فرماتا ہے کہ ایک توشرک ان کے رستہ میں روک ہے۔دوسراپردہ یہ ہے کہ یہ غورسے بات سنتے ہی نہیں۔الزام لگانے اور تمسخر کرنے کے خیال سے سنتے ہیں۔جب دل کی یہ حالت ہوتو بات سمجھ کس طرح آئے۔تیسر ا پردہ ان کے دل پر یہ پڑاہواہے کہ محمد رسولؐاللہ کو کمزور سمجھتے ہیں اورخیال کرتے ہیں کہ زیادہ دن تک یہ بات نہیں چلاسکتا۔پھر اسے مان کر کیوں ذلیل ہوں۔چوتھاپردہ یہ ہے کہ بعض نادان محمد رسولؐ اللہ کودیوانہ خیال کرتے ہیں۔ا س لئے آپ کی بات سن کر توجہ کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔پانچواں پردہ یہ ہے کہ بعض خیا ل کرتے ہیں کہ اسے دھوکا لگ گیاہے اورو ہ اس خیال میں خوش ہیں کہ ہم نے اس کی حقیقت معلوم کرلی ہے اورغور اورفکر سے آزاد ہوگئے ہیں۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ جب و ہ مسلمانوں پر ظلم کرتے کرتے تھک گئے اوراس طر ح کامیابی نہ ہوئی تو وہ چھپ چھپ کرلوگوں کوسمجھا نے لگے اورنرمی کاپہلو اختیار کرکے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ ہونے کی تلقین کرنی شروع کردی۔