تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 341

اَلْعَہْدُ۔اَلوَصِیَّۃُ۔وصیت اَلْیَمِیْنُ یَحْلِفُ بِھَا الرَّجُلُ۔قسم۔اَلْمَوْثِقُ۔پختہ بات۔اَلْمِیْثَاقُ۔پختہ اقرار۔الَّذِیْ یَکْتُبُہٗ وَلِیُّ الْاَمْرِ لِلْوُلَاۃِ اِیْذَانًا بِتَوْلِیَتِھِمْ۔بادشاہ اپنے ماتحت افسران کو جو ان کی تقرری کا حکم نامہ لکھ کر دیتا ہے۔(اقرب) تفسیر۔بچے زیادہ طور پر اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں یتیم ہوتے ہیں جن میں قتل،وبائیں وغیرہ شامل ہیں۔پس قتل کے حکم کے بعد جس سے دوگھروں میں بچے یتیم رہ جائیں گے مقتول کے گھر میں بھی اورقاتل کے گھر میں بھی۔جب وہ قتل کی سزامیں قتل کیاجائے گا۔یتامیٰ کے حقوق کو بیان کیا۔یتامیٰ کے مال کی حفاظت کا طریق اس بارہ میں فرماتا ہے کہ یتامیٰ کے مال کے قریب بھی نہ جائو۔اِلَّا بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ یعنی صرف ایک طریق ایک کے مال پر تصرف کرنے کاہے کہ اس سے بہتر سے بہتر نتیجہ پیدا کیا جائے۔یعنی صرف یہی نہیں کہ ان کے مال کو ناجائز طورپر استعمال نہ کرو بلکہ ان کو اس طرح استعمال کرو کہ وہ مال بڑھیں اوریتیموں کافائدہ ہو اس آیت میں اسلامی نظام کاایک اورایساحکم بیان کیاگیا ہے جس میں اسلام دوسرے مذاہب سے ممتاز اورمنفردہے یتیموں سے حسن سلوک کاحکم توسب مذاہب میں ملتاہے۔لیکن یہ حکم کہ ان کے اموال کی حفاظت کرو اوران کو بڑھانے کی کوشش کرو۔کسی اورمذہب میں نہیں ملتا۔گویااس آیت میں ایک عام کورٹ آف وارڈز مقررکیاگیا ہے یعنی نابالغوں کی جائداد کی حفاظت کرنے والامحکمہ۔آج کل مغربی حکومتوں کے ماتحت اس حکم پر عمل ہو رہاہے۔مگر اس خیال کی بنیاد اسلام نے ہی آج سے تیرہ سوسال پہلے قائم کی ہے۔یتیم کی حدجوانی سے مراد حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ سے یہ مراد نہیں کہ جب وہ جوان ہوجائیں۔توان کے اموال کھانے جائز ہیں۔کیونکہ اول تو یتیم جب بڑاہوجائے گا تووہ اپنامال کھانے ہی کیوں دے گا۔دوسرے یہ خلاف عقل ہے کہ جب تک یتیم اپنے مال کو استعما ل نہ کرسکتاتھا۔اس وقت تک تو اس کے مال کو بڑھایا جائے اورجب اس کے استعمال کرنے کا موقعہ آئے تواس کو کھاناشروع کردیاجائے۔اسلام کسی کامال کھانے کی اجازت نہیں دیتا خواہ وہ یتیم ہو یاغیر یتیم۔پس اس آیت کے یہ معنے ہیں کہ جب تک وہ عقل کی اس حد کو نہ پہنچ جائے کہ وہ خود اپنے مال کو سنبھال سکے اس وقت تک حفاظت کرنی چاہیے اوردرمیان میں ہی اس کی حفاظت نہ چھوڑ دینی چاہیے۔مثلاً جب دس بارہ سال کاہوگیا توکہہ دیاکہ اب بڑاہوگیا ہے خود مال سنبھال لے گا۔غرض جوانی تک پہنچنے کی قید ا س لئے نہیں کہ اس کے بعد بے شک اس کا مال کھائو۔بلکہ یہ قید اس لئے لگائی گئی ہے کہ پوری جوانی سے پہلے جبکہ وہ مال کی حفاظت کے قابل ہوجائے۔رشتہ داروں یاحکومت کو اس کی امداد چھوڑ نہ دینی چاہیے۔دوسرے ان الفاظ سے اس