تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 338

تفسیر۔بغیر حق کسی کو قتل کرنا منع ہے اوپرکی دوآیتوں میں قتل کے دونوں مخفی ذرائع بیان کئے تھے۔اب کھلے قتل کے بارہ میں حکم بیان فرمایاگیاہے۔چنانچہ فرماتا ہے کہ کسی جان کو جس کے قتل کو خدا تعالیٰ نے حرام کیا ہے قتل نہ کرنا چاہیے۔بِالْحَقِّ اس لئے فرمایا کہ نفس ہراس چیز کو کہتے ہیں جوسانس لیتی ہو اوراس لئے سب جاندار اس میں شامل ہیں۔بلکہ آج کل کی سائنس کی تحقیق کے روسے تونباتات کے بارہ میں بھی سانس کالیناثابت ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Plant)۔پس نفس کے ساتھ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ رکھ دیا۔کیونکہ دوسری چیزوں کاقتل اپنی ذات میں حرام نہیں گوبعض وجوہات سے حرا م ہو جاتا ہے مثلاً حرم شریف میں کسی جانورکو قتل نہ کرنا چاہیے۔اسی طرح اگر کوئی جانور کسی دوسرے کی ملکیت میں ہو تواس کوبھی قتل کرنا حرام ہے۔اسی طرح ذبح کے طریق کے سواجو حلال جانوروں کے لئے جائز ہے اَوربعض طریقوں سے جانوروںکاقتل بھی ناجائزہے۔پس اِلَّا بِالحقِّ کہہ کر ایک توانسا ن کو اس حکم کے لئے مخصوص کردیا۔دوسرے انسانوں میں سے ان کو حکم سے باہر نکال دیا۔جن کابعض اسبا ب کے ماتحت مارناجائزہومثلاً قاتل یا جولوگ دوسرے کو قتل کرنے کے لئے حملہ آورہوں وغیرہ وغیر ہ۔حق کی تشریح بِالْحَقِّ کے لفظ سے اس طرف بھی اشار ہ کیا ہے کہ جس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق ملے اس وقت قتل جائز ہے۔گویا نہی بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی اوراجازت بھی اسی کی طرف سےہونی چاہیے۔ا س شرط سے مواقع جنگ کو محدود کردیاگیاہے۔اسی طرح حکومت کے اختیارات جان لینے کے متعلق محدود کردئے گئے ہیں۔اس شرط کی وجہ سے اگر کوئی دایہ یہ کہے کہ چونکہ بچہ کی والدہ نے کہا تھا کہ بچہ کو مارڈال اس لئے میں نے مار ڈالا یاکوئی حاکم کسی کو جبراً مروادے تووہ جرم سے بری نہیں سمجھے جائیں گے۔کیونکہ قتل اسی صورت میں جائز ہے جبکہ اس جان کو پیداکرنے والے کی طرف سے قتل کرنے کا حق کسی کو عطا ہوا۔وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ۔اورجومظلوم قتل کیا جاوے ہم نے اس کے ولی کوغلبہ یاحجت دی ہے۔ولی کے معنی ولی ہروہ شخص ہے جوکسی کی وراثت کا حقدار ہو۔اورایسے شخص کو بھی ولی کہتے ہیں کہ جس کو وہ خود مقررکردے۔جیسے کہ مروی ہے کہ جب دشمن حضرت عثمانؓ کے خلاف منصوبے کررہے تھے۔حضرت معاویہ ؓ نے ان سے درخواست کی کہ آ پ مجھے اپنا ولی بنادیں تاکہ ان لوگوں پر رعب ہواور وہ سمجھیں کہ عثمان کے قتل کابدلہ لینے والا ایک شخص موجود ہے۔تواس کے جواب میں حضر ت عثمانؓ نے فرمایا کہ تمہارے متعلق احتمال ہے کہ تم مسلمانوں پرسختی کروگے میں تم کوولی نہیں مقررکرتا۔اس سے یہ مستنبط ہوتاہے کہ ایساولی بناناجائز ہے۔